انو رضوی کے اشعار
یہاں غریب کو سب کچھ تو دے دیا اس نے
زمیں بچھائے ہے اور آسمان اوڑھے ہے
دریا چڑھا تو گاؤں کے گاؤں بہا گیا
اترا تو کتنے شہر کے نقشے بنا گیا
کبھی تو باڑھ آ کے اپنے ساتھ سب بہا گئی
کبھی کسان بارشوں کی راہ دیکھتا رہا
میں تو نکلا تھا چراغوں کو جلانے کے لیے
لوگ کم ظرف تھے دامن کو بچا کر بھاگے
اس کو یہ دل بھول سکے گا مشکل لگتا ہے
مشکل سے تو جا کے کسی سے یہ دل لگتا ہے
اچھے لوگوں سے مل جل کر دیکھو نا
ہم بھی ہیں ہم سے بھی کھل کر دیکھو نا
خدا ہماری سماعت کو جب رسائی دے
وہ جو بھی سوچے ہمیں دور سے سنائی دے
میرے اس کے درمیاں کچھ بد گمانی آ گئی
پھر حقیقت میں وہی جھوٹی کہانی آ گئی
ہر گام پہ دشواری ہر موڑ پہ پہرے ہیں
اب آپ سے ملنے کے دن کتنے سنہرے ہیں
ہمیں خبر نہ ہوئی اور رات آ پہنچی
کہاں سے دیکھو کہاں تک حیات آ پہنچی
یہ کیسے لوگ ہیں یہ کون سی عداوت ہے
ذرا سی بات میں جو خاندان تک جائیں
آج وہ کچھ اور بھی اچھا لگا
اس کا چہرہ مجھ کو آئینہ لگا
راز ہے لیکن پھر بھی تم کو سچی بات بتاتے ہیں
اپنے گھر کے دیے سے اکثر ہاتھ مرے جل جاتے ہیں
زمین پاؤں میں اور سر پہ آسمان لیے
بھٹک رہا ہوں میں اتنا بڑا مکان لیے
میری آنکھوں میں گئی رات کا منظر رکھ دے
میں ہوں قطرہ مرے پہلو میں سمندر رکھ دے
ہمارے نام یہ پیغام تھا کہ جل جاؤ
اور اس کے نام کے آگے بہار لکھا تھا
اسے ہنر ہے نگاہوں سے بات کرنے کا
میں بے زبان سا لگتا ہوں یہ زبان لیے
در رسائی بھی اب بند ہو گیا ورنہ
ہم اپنی آنکھ سے اس کی زبان تک جائیں
ہمارے اس کے درمیاں یہ کیسا فاصلہ رہا
اسے بھی سب خبر رہی ہمیں بھی سب پتا رہا
اپنے ہاتھوں سے زہر مت دیجے
یہ کہیں زندگی نہ بن جائے
کچھ ایسا پیاس کا غلبہ تھا ہر طرف طاری
ہر ایک آنکھ سے لب تک فرات آ پہنچی
میں سورج تھا مجھ کو رات بھگو ڈالا
شبنم نے سارا منظر ہی دھو ڈالا
روشنی اس گھر کی زینت بن گئی
میرے گھر سورج پہ پھر پہرا لگا