Faheem Shanas Kazmi's Photo'

فہیم شناس کاظمی

1965 | کراچی, پاکستان

111
Favorite

باعتبار

تمہاری یاد نکلتی نہیں مرے دل سے

نشہ چھلکتا نہیں ہے شراب سے باہر

جن کو چھو کر کتنے زیدیؔ اپنی جان گنوا بیٹھے

میرے عہد کی شہنازوںؔ کے جسم بڑے زہریلے تھے

بدلتے وقت نے بدلے مزاج بھی کیسے

تری ادا بھی گئی میرا بانکپن بھی گیا

اسی نے چاند کے پہلو میں اک چراغ رکھا

اسی نے دشت کے ذروں کو آفتاب کیا

گزرا مرے قریب سے وہ اس ادا کے ساتھ

رستے کو چھو کے جس طرح رستہ گزر گیا

زندگی اب تو مجھے اور کھلونے لا دے

ایسے خوابوں سے تو میں دل نہیں بہلا سکتا

تیری گلی کے موڑ پہ پہنچے تھے جلد ہم

پر تیرے گھر کو آتے ہوئے دیر ہو گئی

کن دریچوں کے چراغوں سے ہمیں نسبت تھی

کہ ابھی جل نہیں پائے کہ بجھائے گئے ہم

بچھڑ کے تجھ سے تری یاد بھی نہیں آئی

مکاں کی سمت پلٹ کر مکیں نہیں آیا

کوئی بھی رستہ کسی سمت کو نہیں جاتا

کوئی سفر مری تکمیل کرنے والا نہیں

تمام عمر ہوا کی طرح گزاری ہے

اگر ہوئے بھی کہیں تو کبھو کبھو ہوئے ہم

پھر وہی شام وہی درد وہی اپنا جنوں

جانے کیا یاد تھی وہ جس کو بھلائے گئے ہم

یوں جگمگا اٹھا ہے تری یاد سے وجود

جیسے لہو سے کوئی ستارہ گزر گیا

زمین پر نہ رہے آسماں کو چھوڑ دیا

تمہارے بعد زمان و مکاں کو چھوڑ دیا

کسی کے دل میں اترنا ہے کار لا حاصل

کہ ساری دھوپ تو ہے آفتاب سے باہر

اس کے لبوں کی گفتگو کرتے رہے سبو سبو

یعنی سخن ہوئے تمام یعنی کلام ہو چکا

وہ جس کے ہاتھ سے تقریب دل نمائی تھی

ابھی وہ لمحۂ موجود میں نہیں آیا

خود اپنے ہونے کا ہر اک نشاں مٹا ڈالا

شناسؔ پھر کہیں موضوع گفتگو ہوئے ہم

بس ایک بار وہ آیا تھا سیر کرنے کو

پھر اس کے ساتھ ہی خوشبو گئی چمن بھی گیا