Faheem Shanas Kazmi's Photo'

فہیم شناس کاظمی

1965 | کراچی, پاکستان

غزل 14

اشعار 19

تمہاری یاد نکلتی نہیں مرے دل سے

نشہ چھلکتا نہیں ہے شراب سے باہر

بدلتے وقت نے بدلے مزاج بھی کیسے

تری ادا بھی گئی میرا بانکپن بھی گیا

اسی نے چاند کے پہلو میں اک چراغ رکھا

اسی نے دشت کے ذروں کو آفتاب کیا

جن کو چھو کر کتنے زیدیؔ اپنی جان گنوا بیٹھے

میرے عہد کی شہنازوںؔ کے جسم بڑے زہریلے تھے

گزرا مرے قریب سے وہ اس ادا کے ساتھ

رستے کو چھو کے جس طرح رستہ گزر گیا

کتاب 2

خواب سے باہر

 

2009

راہداری میں گونجتی نظم

 

2013

 

مزید دیکھیے

"کراچی" کے مزید شعرا

  • جون ایلیا جون ایلیا
  • ذیشان ساحل ذیشان ساحل
  • سیماب اکبرآبادی سیماب اکبرآبادی
  • دلاور فگار دلاور فگار
  • عذرا عباس عذرا عباس
  • سلیم کوثر سلیم کوثر
  • جمال احسانی جمال احسانی
  • ادا جعفری ادا جعفری
  • فہمیدہ ریاض فہمیدہ ریاض
  • مصطفی زیدی مصطفی زیدی