Faryad Aazar's Photo'

فریاد آزر

1956 - - | دلی, انڈیا

فریاد آزر

غزل 9

نظم 1

 

اشعار 10

ادا ہوا نہ قرض اور وجود ختم ہو گیا

میں زندگی کا دیتے دیتے سود ختم ہو گیا

ایسی خوشیاں تو کتابوں میں ملیں گی شاید

ختم اب گھر کا تصور ہے مکاں باقی ہے

بند ہو جاتا ہے کوزے میں کبھی دریا بھی

اور کبھی قطرہ سمندر میں بدل جاتا ہے

جو دور رہ کے اڑاتا رہا مذاق مرا

قریب آیا تو رویا گلے لگا کے مجھے

صبح ہوتی ہے تو دفتر میں بدل جاتا ہے

یہ مکاں رات کو پھر گھر میں بدل جاتا ہے

کتاب 3

 

"دلی" کے مزید شعرا

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI

Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

GET YOUR FREE PASS
بولیے