کاشف اورا کے اشعار
میں محبت میں بہت سوں کو خدا مانتا ہوں
تم کسی ایک کا پوچھو گے تو ماں بولوں گا
تیری یاد کی الماری میں
اپنا آپ چھپا رکھا ہے
جتنی خوشبو تھی وار دی تم پر
اب فقط سانس کھینچ سکتا ہوں
اپنی خوشبو سنبھال کر رکھنا
تھوڑے عرصے میں لوٹ آؤں گا
تیری مرضی کے خواب دیکھوں گا
میری نیندوں میں روشنی بھر دے
ہمراہ میرے عید منائی نہیں گئی
کہتا تھا ایک ساتھ مدینے کو جائیں گے
اس لڑکی کے تحفے ہیں الماری میں
روز محبت جی اٹھتی ہے کمرے سے
شعر کہہ کے گزار سکتے ہیں
زندگی ہو یا ماں کا دن کاشفؔ
راستہ دیکھتا رہوں تیرا
شعر کہتا رہوں محبت پر
کس نے تمہارے گال کو بوسوں سے بھر دیا
کس نے کہے ہیں شعر ہماری زمین پر
جیب میں پھول کا ہونا ہے ضروری کاشفؔ
جنگ میں ہاتھ سے تلوار پھسل سکتی ہے
تیری آنکھوں پہ کام جاری تھا
رب کے ہاتھوں سے گر گئی دنیا
ماں محبت کی میم ہے کاشفؔ
ماں میں نفرت کی نون خالی ہے
خواب کی عمر میں اضافہ ہو
آنکھ ناسور کر چکا ہوں میں
اس کی تصویر تھی مقدر میں
میں جسے آنکھ کرنا چاہتا تھا
دل پرندہ ہے دوستی والا
تیرگی میں اذان دیتا ہے
تیری مرضی کے مطابق تجھے چاہے کاشفؔ
جھنگ کے لوگ محبت میں خدا ہوتے ہیں
اپنی پرواز سونپ دی اس کو
سارے اشعار کہہ دیے اس پر
مشورے سے بچھڑنا پڑتا تھا
ہم خوشی سے اداس ہوتے تھے