Munawwar Rana's Photo'

منور رانا

1952 | لکھنؤ, ہندوستان

مقبول شاعر، مشاعروں میں لازمی موجودگی

مقبول شاعر، مشاعروں میں لازمی موجودگی

16.34K
Favorite

باعتبار

اب جدائی کے سفر کو مرے آسان کرو

تم مجھے خواب میں آ کر نہ پریشان کرو

تمہاری آنکھوں کی توہین ہے ذرا سوچو

تمہارا چاہنے والا شراب پیتا ہے

چلتی پھرتی ہوئی آنکھوں سے اذاں دیکھی ہے

میں نے جنت تو نہیں دیکھی ہے ماں دیکھی ہے

ایک آنسو بھی حکومت کے لیے خطرہ ہے

تم نے دیکھا نہیں آنکھوں کا سمندر ہونا

ابھی زندہ ہے ماں میری مجھے کچھ بھی نہیں ہوگا

میں گھر سے جب نکلتا ہوں دعا بھی ساتھ چلتی ہے

کسی کو گھر ملا حصے میں یا کوئی دکاں آئی

میں گھر میں سب سے چھوٹا تھا مرے حصے میں ماں آئی

اس طرح میرے گناہوں کو وہ دھو دیتی ہے

ماں بہت غصے میں ہوتی ہے تو رو دیتی ہے

سو جاتے ہیں فٹ پاتھ پہ اخبار بچھا کر

مزدور کبھی نیند کی گولی نہیں کھاتے

کچھ بکھری ہوئی یادوں کے قصے بھی بہت تھے

کچھ اس نے بھی بالوں کو کھلا چھوڑ دیا تھا

کل اپنے آپ کو دیکھا تھا ماں کی آنکھوں میں

یہ آئینہ ہمیں بوڑھا نہیں بتاتا ہے

جب بھی کشتی مری سیلاب میں آ جاتی ہے

ماں دعا کرتی ہوئی خواب میں آ جاتی ہے

تمام جسم کو آنکھیں بنا کے راہ تکو

تمام کھیل محبت میں انتظار کا ہے

تمہیں بھی نیند سی آنے لگی ہے تھک گئے ہم بھی

چلو ہم آج یہ قصہ ادھورا چھوڑ دیتے ہیں

منور ماں کے آگے یوں کبھی کھل کر نہیں رونا

جہاں بنیاد ہو اتنی نمی اچھی نہیں ہوتی

تمہارا نام آیا اور ہم تکنے لگے رستہ

تمہاری یاد آئی اور کھڑکی کھول دی ہم نے

تیرے دامن میں ستارے ہیں تو ہوں گے اے فلک

مجھ کو اپنی ماں کی میلی اوڑھنی اچھی لگی

برباد کر دیا ہمیں پردیس نے مگر

ماں سب سے کہہ رہی ہے کہ بیٹا مزے میں ہے

فرشتے آ کر ان کے جسم پر خوشبو لگاتے ہیں

وہ بچے ریل کے ڈبوں میں جو جھاڑو لگاتے ہیں

کسی کے زخم پر چاہت سے پٹی کون باندھے گا

اگر بہنیں نہیں ہوں گی تو راکھی کون باندھے گا

گر کبھی رونا ہی پڑ جائے تو اتنا رونا

آ کے برسات ترے سامنے توبہ کر لے

ہنس کے ملتا ہے مگر کافی تھکی لگتی ہیں

اس کی آنکھیں کئی صدیوں کی جگی لگتی ہیں

ہم نہیں تھے تو کیا کمی تھی یہاں

ہم نہ ہوں گے تو کیا کمی ہوگی

یہ ایسا قرض ہے جو میں ادا کر ہی نہیں سکتا

میں جب تک گھر نہ لوٹوں میری ماں سجدے میں رہتی ہے

لپٹ جاتا ہوں ماں سے اور موسی مسکراتی ہے

میں اردو میں غزل کہتا ہوں ہندی مسکراتی ہے

میں نے کل شب چاہتوں کی سب کتابیں پھاڑ دیں

صرف اک کاغذ پہ لکھا لفظ ماں رہنے دیا

دن بھر کی مشقت سے بدن چور ہے لیکن

ماں نے مجھے دیکھا تو تھکن بھول گئی ہے

تمہارے شہر میں میت کو سب کاندھا نہیں دیتے

ہمارے گاؤں میں چھپر بھی سب مل کر اٹھاتے ہیں

اب آپ کی مرضی ہے سنبھالیں نہ سنبھالیں

خوشبو کی طرح آپ کے رومال میں ہم ہیں

دولت سے محبت تو نہیں تھی مجھے لیکن

بچوں نے کھلونوں کی طرف دیکھ لیا تھا

بچوں کی فیس ان کی کتابیں قلم دوات

میری غریب آنکھوں میں اسکول چبھ گیا

کسی کی یاد آتی ہے تو یہ بھی یاد آتا ہے

کہیں چلنے کی ضد کرنا مرا تیار ہو جانا

کھلونوں کی دکانوں کی طرف سے آپ کیوں گزرے

یہ بچے کی تمنا ہے یہ سمجھوتا نہیں کرتی

محبت ایک پاکیزہ عمل ہے اس لیے شاید

سمٹ کر شرم ساری ایک بوسے میں چلی آئی

اے خاک وطن تجھ سے میں شرمندہ بہت ہوں

مہنگائی کے موسم میں یہ تہوار پڑا ہے

مرے بچوں میں ساری عادتیں موجود ہیں میری

تو پھر ان بد نصیبوں کو نہ کیوں اردو زباں آئی

گھر میں رہتے ہوئے غیروں کی طرح ہوتی ہیں

لڑکیاں دھان کے پودوں کی طرح ہوتی ہیں

شہر کے رستے ہوں چاہے گاؤں کی پگڈنڈیاں

ماں کی انگلی تھام کر چلنا بہت اچھا لگا

یہ سوچ کے ماں باپ کی خدمت میں لگا ہوں

اس پیڑ کا سایا مرے بچوں کو ملے گا

مٹی کا بدن کر دیا مٹی کے حوالے

مٹی کو کہیں تاج محل میں نہیں رکھا

ماں خواب میں آ کر یہ بتا جاتی ہے ہر روز

بوسیدہ سی اوڑھی ہوئی اس شال میں ہم ہیں

پھر کربلا کے بعد دکھائی نہیں دیا

ایسا کوئی بھی شخص کہ پیاسا کہیں جسے

پھینکی نہ منورؔ نے بزرگوں کی نشانی

دستار پرانی ہے مگر باندھے ہوئے ہے

بوجھ اٹھانا شوق کہاں ہے مجبوری کا سودا ہے

رہتے رہتے اسٹیشن پر لوگ قلی ہو جاتے ہیں

کسی دن میری رسوائی کا یہ کارن نہ بن جائے

تمہارا شہر سے جانا مرا بیمار ہو جانا

بھلے لگتے ہیں اسکولوں کی یونیفارم میں بچے

کنول کے پھول سے جیسے بھرا تالاب رہتا ہے

یہ سوچ کر کہ ترا انتظار لازم ہے

تمام عمر گھڑی کی طرف نہیں دیکھا

پچپن برس کی عمر تو ہونے کو آ گئی

لیکن وہ چہرہ آنکھوں سے اوجھل نہ ہو سکا

کھلونوں کے لئے بچے ابھی تک جاگتے ہوں گے

تجھے اے مفلسی کوئی بہانہ ڈھونڈ لینا ہے

آتے ہیں جیسے جیسے بچھڑنے کے دن قریب

لگتا ہے جیسے ریل سے کٹنے لگا ہوں میں

میں راہ عشق کے ہر پیچ و خم سے واقف ہوں

یہ راستہ مرے گھر سے نکل کے جاتا ہے