Mustafa Zaidi's Photo'

مصطفی زیدی

1929 - 1970 | کراچی, پاکستان

تیغ الہ آبادی کے نام سے بھی مشہور، پاکستان میں سی ایس پی افسر تھے، پراسرار حالات میں قتل کیے گئے

تیغ الہ آبادی کے نام سے بھی مشہور، پاکستان میں سی ایس پی افسر تھے، پراسرار حالات میں قتل کیے گئے

2.87K
Favorite

باعتبار

انہیں پتھروں پہ چل کر اگر آ سکو تو آؤ

مرے گھر کے راستے میں کوئی کہکشاں نہیں ہے

مری روح کی حقیقت مرے آنسوؤں سے پوچھو

مرا مجلسی تبسم مرا ترجماں نہیں ہے

میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں

تمام شہر نے پہنے ہوئے ہیں دستانے

دل کے رشتے عجیب رشتے ہیں

سانس لینے سے ٹوٹ جاتے ہیں

اس طرح ہوش گنوانا بھی کوئی بات نہیں

اور یوں ہوش سے رہنے میں بھی نادانی ہے

روح کے اس ویرانے میں تیری یاد ہی سب کچھ تھی

آج تو وہ بھی یوں گزری جیسے غریبوں کا تیوہار

عشق ان ظالموں کی دنیا میں

کتنی مظلوم ذات ہے اے دل

اترا تھا جس پہ باب حیا کا ورق ورق

بستر کے ایک ایک شکن کی شریک تھی

خود اپنے شب و روز گزر جائیں گے لیکن

شامل ہے مرے غم میں تری در بدری بھی

تتلیاں اڑتی ہیں اور ان کو پکڑنے والے

سعیٔ ناکام میں اپنوں سے بچھڑ جاتے ہیں

جس دن سے اپنا طرز فقیرانہ چھٹ گیا

شاہی تو مل گئی دل شاہانہ چھٹ گیا

غم دوراں نے بھی سیکھے غم جاناں کے چلن

وہی سوچی ہوئی چالیں وہی بے ساختہ پن

آنکھ جھک جاتی ہے جب بند قبا کھلتے ہیں

تجھ میں اٹھتے ہوئے خورشید کی عریانی ہے

اک موج خون خلق تھی کس کی جبیں پہ تھی

اک طوق فرد جرم تھا کس کے گلے میں تھا

ناوک ظلم اٹھا دشنۂ اندوہ سنبھال

لطف کے خنجر بے نام سے مت مار مجھے