Sheikh Ibrahim Zauq's Photo'

شیخ ابراہیم ذوقؔ

1790 - 1854 | دلی, ہندوستان

آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کے استاد اور ملک الشعرا۔ غالب کے ساتھ ان کی رقابت مشہور ہے

آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کے استاد اور ملک الشعرا۔ غالب کے ساتھ ان کی رقابت مشہور ہے

13.7K
Favorite

باعتبار

ایک آنسو نے ڈبویا مجھ کو ان کی بزم میں

بوند بھر پانی سے ساری آبرو پانی ہوئی

a single tear caused my fall in her company

just a drop of water drowned my dignity

a single tear caused my fall in her company

just a drop of water drowned my dignity

اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گے

مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے

being agitated I express the hope to die, although

in death, if solace is not found, then where shall I go?

being agitated I express the hope to die, although

in death, if solace is not found, then where shall I go?

اے ذوقؔ تکلف میں ہے تکلیف سراسر

آرام میں ہے وہ جو تکلف نہیں کرتا

save trouble, in formality, zauq nothing else can be

at ease he then remains he who, eschews formality

save trouble, in formality, zauq nothing else can be

at ease he then remains he who, eschews formality

زاہد شراب پینے سے کافر ہوا میں کیوں

کیا ڈیڑھ چلو پانی میں ایمان بہہ گیا

تم بھول کر بھی یاد نہیں کرتے ہو کبھی

ہم تو تمہاری یاد میں سب کچھ بھلا چکے

اے ذوقؔ دیکھ دختر رز کو نہ منہ لگا

چھٹتی نہیں ہے منہ سے یہ کافر لگی ہوئی

بجا کہے جسے عالم اسے بجا سمجھو

زبان خلق کو نقارۂ خدا سمجھو

ذوقؔ جو مدرسے کے بگڑے ہوئے ہیں ملا

ان کو مے خانے میں لے آؤ سنور جائیں گے

معلوم جو ہوتا ہمیں انجام محبت

لیتے نہ کبھی بھول کے ہم نام محبت

had I known this is how love would end

even its name would not cross my lips my friend

had I known this is how love would end

even its name would not cross my lips my friend

کتنے مفلس ہو گئے کتنے تونگر ہو گئے

خاک میں جب مل گئے دونوں برابر ہو گئے

however many paupers passed, and wealthy went and came

when they were consigned to dust they were all the same

however many paupers passed, and wealthy went and came

when they were consigned to dust they were all the same

ہم رونے پہ آ جائیں تو دریا ہی بہا دیں

شبنم کی طرح سے ہمیں رونا نہیں آتا

لائی حیات آئے قضا لے چلی چلے

اپنی خوشی نہ آئے نہ اپنی خوشی چلے

آدمیت اور شے ہے علم ہے کچھ اور شے

کتنا طوطے کو پڑھایا پر وہ حیواں ہی رہا

مرض عشق جسے ہو اسے کیا یاد رہے

نہ دوا یاد رہے اور نہ دعا یاد رہے

he who is stricken by love, remembers naught at all

no cure will come to mind, nor prayer will recall

he who is stricken by love, remembers naught at all

no cure will come to mind, nor prayer will recall

مسجد میں اس نے ہم کو آنکھیں دکھا کے مارا

کافر کی شوخی دیکھو گھر میں خدا کے مارا

حق نے تجھ کو اک زباں دی اور دیئے ہیں کان دو

اس کے یہ معنی کہے اک اور سنے انسان دو

the lord did on our face one mouth and two ears array

for to listen twich as much as we are wont to say

the lord did on our face one mouth and two ears array

for to listen twich as much as we are wont to say

بوسہ جو رخ کا دیتے نہیں لب کا دیجئے

یہ ہے مثل کہ پھول نہیں پنکھڑی سہی

کیا جانے اسے وہم ہے کیا میری طرف سے

جو خواب میں بھی رات کو تنہا نہیں آتا

I wonder to what misgivings she is prone

that even in my dreams she's not alone

I wonder to what misgivings she is prone

that even in my dreams she's not alone

اے شمع تیری عمر طبیعی ہے ایک رات

ہنس کر گزار یا اسے رو کر گزار دے

ناز ہے گل کو نزاکت پہ چمن میں اے ذوقؔ

اس نے دیکھے ہی نہیں ناز و نزاکت والے

بہتر تو ہے یہی کہ نہ دنیا سے دل لگے

پر کیا کریں جو کام نہ بے دل لگی چلے

ان دنوں گرچہ دکن میں ہے بڑی قدر سخن

کون جائے ذوقؔ پر دلی کی گلیاں چھوڑ کر

رلائے گی مری یاد ان کو مدتوں صاحب

کریں گے بزم میں محسوس جب کمی میری

وقت پیری شباب کی باتیں

ایسی ہیں جیسے خواب کی باتیں

in old age talk of youth now seems

to be just like the stuff of dreams

in old age talk of youth now seems

to be just like the stuff of dreams

خط بڑھا کاکل بڑھے زلفیں بڑھیں گیسو بڑھے

حسن کی سرکار میں جتنے بڑھے ہندو بڑھے

سب کو دنیا کی ہوس خوار لیے پھرتی ہے

کون پھرتا ہے یہ مردار لیے پھرتی ہے

کیا دیکھتا ہے ہاتھ مرا چھوڑ دے طبیب

یاں جان ہی بدن میں نہیں نبض کیا چلے

رہتا سخن سے نام قیامت تلک ہے ذوقؔ

اولاد سے تو ہے یہی دو پشت چار پشت

بے قراری کا سبب ہر کام کی امید ہے

ناامیدی ہو تو پھر آرام کی امید ہے

دیکھ چھوٹوں کو ہے اللہ بڑائی دیتا

آسماں آنکھ کے تل میں ہے دکھائی دیتا

even to tiny creatures God greatness does provide

in the pupil of the eye skies can be espied

even to tiny creatures God greatness does provide

in the pupil of the eye skies can be espied

جو کہو گے تم کہیں گے ہم بھی ہاں یوں ہی سہی

آپ کی گر یوں خوشی ہے مہرباں یوں ہی سہی

دنیا نے کس کا راہ فنا میں دیا ہے ساتھ

تم بھی چلے چلو یوں ہی جب تک چلی چلے

نہ ہوا پر نہ ہوا میرؔ کا انداز نصیب

ذوقؔ یاروں نے بہت زور غزل میں مارا

تم جسے یاد کرو پھر اسے کیا یاد رہے

نہ خدائی کی ہو پروا نہ خدا یاد رہے

ہم نہیں وہ جو کریں خون کا دعویٰ تجھ پر

بلکہ پوچھے گا خدا بھی تو مکر جائیں گے

شکر پردے ہی میں اس بت کو حیا نے رکھا

ورنہ ایمان گیا ہی تھا خدا نے رکھا

گیا شیطان مارا ایک سجدہ کے نہ کرنے میں

اگر لاکھوں برس سجدے میں سر مارا تو کیا مارا

پلا مے آشکارا ہم کو کس کی ساقیا چوری

خدا سے جب نہیں چوری تو پھر بندے سے کیا چوری

باقی ہے دل میں شیخ کے حسرت گناہ کی

کالا کرے گا منہ بھی جو داڑھی سیاہ کی

ہمیں نرگس کا دستہ غیر کے ہاتھوں سے کیوں بھیجا

جو آنکھیں ہی دکھانی تھیں دکھاتے اپنی نظروں سے

کل جہاں سے کہ اٹھا لائے تھے احباب مجھے

لے چلا آج وہیں پھر دل بے تاب مجھے

the place from where my friends had picked me yesterday

my restless heart takes me again to that place today

the place from where my friends had picked me yesterday

my restless heart takes me again to that place today

موت نے کر دیا لاچار وگرنہ انساں

ہے وہ خودبیں کہ خدا کا بھی نہ قائل ہوتا

ایک پتھر پوجنے کو شیخ جی کعبے گئے

ذوقؔ ہر بت قابل بوسہ ہے اس بت خانے میں

نکالوں کس طرح سینے سے اپنے تیر جاناں کو

نہ پیکاں دل کو چھوڑے ہے نہ دل چھوڑے ہے پیکاں کو

how do I from my breast dislodge my love's arrow

this barb doesn’t leave my heart nor does my heart let go

how do I from my breast dislodge my love's arrow

this barb doesn’t leave my heart nor does my heart let go

مزے جو موت کے عاشق بیاں کبھو کرتے

مسیح و خضر بھی مرنے کی آرزو کرتے

تواضع کا طریقہ صاحبو پوچھو صراحی سے

کہ جاری فیض بھی ہے اور جھکی جاتی ہے گردن بھی

پھول تو دو دن بہار جاں فزا دکھلا گئے

حسرت ان غنچوں پہ ہے جو بن کھلے مرجھا گئے

بعد رنجش کے گلے ملتے ہوئے رکتا ہے دل

اب مناسب ہے یہی کچھ میں بڑھوں کچھ تو بڑھے

تو جان ہے ہماری اور جان ہے تو سب کچھ

ایمان کی کہیں گے ایمان ہے تو سب کچھ

احسان نا خدا کا اٹھائے مری بلا

کشتی خدا پہ چھوڑ دوں لنگر کو توڑ دوں