aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ ",waLU"
نظیر اکبرآبادی
1735 - 1830
شاعر
ولی دکنی
1667 - 1707
والی آسی
1939 - 2002
ولی عزلت
1692 - 1775
ولاء جمال العسیلی
اشرف صبوحی
1905 - 1990
مصنف
ولی عالم شاہین
born.1938
راز یزدانی
1908 - 1963
شاہ روم خان ولی
born.1986
ولی کاکوروی
1902 - 1963
شاہ نعمت اللہ ولی
ولی اللہ ولی
born.1967
دھرمیندر تجوری والے آزاد
born.1976
میر دبیر قاضی ولی محمد
محمد ولی رازی
پتھر مجھے کہتا ہے مرا چاہنے والامیں موم ہوں اس نے مجھے چھو کر نہیں دیکھا
وہ جو نہ آنے والا ہے نا اس سے مجھ کو مطلب تھاآنے والوں سے کیا مطلب آتے ہیں آتے ہوں گے
یہ مسائل تصوف یہ ترا بیان غالبؔتجھے ہم ولی سمجھتے جو نہ بادہ خوار ہوتا
ہو رہا ہوں میں کس طرح برباددیکھنے والے ہاتھ ملتے ہیں
داستاں ختم ہونے والی ہےتم مری آخری محبت ہو
مسکراہٹ کو ہم انسانی چہرے کی ایک عام سی حرکت سمجھ کر آگے بڑھ جاتے ہیں لیکن ہمارے منتخب کردہ ان اشعار میں دیکھئے کہ چہرے کا یہ ذرا سا بناؤ کس قدر معنی خیزی لئے ہوئے ہے ۔ عشق وعاشقی کے بیانیے میں اس کی کتنی جہتیں ہیں اور کتنے رنگ ہیں ۔ معشوق مسکراتا ہے تو عاشق اس سے کن کن معنی تک پہنچتا ہے ۔ شاعری کا یہ انتخاب ایک حیرت کدے سے کم نہیں اس میں داخل ہویئے اور لطف لیجئے ۔
پان ہندوستانی تہذیب کا ایک اہم حصہ رہا ہے ۔ اس کے کھانے اور کھلانے سے سماجی زندگی میں میل جول اور یگانگت کی قدریں وابستہ ہیں لیکن شاعروں نے پان کو اور بھی کئی جہتوں سے برتا ہے ۔ پان کی لالی اور اس کی سرخی ایک سطح پر عاشق کے خون کا استعارہ بھی ہے ۔ معشوق کا منھ جو پان سے لال رہتا ہے وہ دراصل عاشق کے خون سے رنگین ہے ۔ شاعرانہ تخیل کے پیدا کئے ہوئے ان مضامین کا لطف لیجئے ۔
वाला والا
رک : والہ جو درست املا ہے ؛ عاشق (عموماً شیدا کے ساتھ مستعمل) ۔
سنسکرت
वालो والو
owner, doer
वाली والی
آقا ، مالک ، سرتاج نیز بادشاہ ؛ مراد : خداوند تعالیٰ
عربی
वाला والَہ
۔(بفتح سوم وخفائے چہارم۔ع۔ بکسر لام وظہور ہا بروزن کارہ۔ اسم فاعل کاصیغہ والہ سے۔فارسیوں نے بفتح لام وخفائے ہا بروزن لالہ استعمال کیا۔؎
فارسی
تذکرہ اولیائے ہندو پاکستان
مفتی ولی حسن ٹونکی
تذکرہ
گوپی چند نارنگ
مقالات/مضامین
اچھی کہانیاں
ولی شاہجہانپوری
افسانہ
پرندہ پکڑنے والی گاڑی
غیاث احمد گدّی
مطالعہ ولی
شارب ردولوی
انتخاب
کلیات ولی
کلیات
منتخب غزلیں
محمود الٰہی
غزل
ایم۔ اے۔ حفیظ
نظم
تبیین الکلام فی تفسیر التوراۃ و الانجیل علی ملۃ الاسلام
سر سید احمد خاں
تقابلی مطالعہ
اویس احمد ادیب
شاعری تنقید
دیوان ولی
دیوان
تتلیاں ڈھونڈنے والی
زاہدہ حنا
کہانیاں/ افسانے
پیش گوئی
شاہ نعمت اللہ ولی کی پیشنگوئیاں
ترجمہ
دکن میں اردو شاعری ولی سے پہلے
محمد جمال شریف
زندگی تیری عطا ہے تو یہ جانے والاتیری بخشش تری دہلیز پہ دھر جائے گا
تم تکلف کو بھی اخلاص سمجھتے ہو فرازؔدوست ہوتا نہیں ہر ہاتھ ملانے والا
امتیں اور بھی ہیں ان میں گنہ گار بھی ہیںعجز والے بھی ہیں مست مئے پندار بھی ہیں
تم میں حوروں کا کوئی چاہنے والا ہی نہیںجلوۂ طور تو موجود ہے موسیٰ ہی نہیں
اگرچہ دیکھنے والے ترے ہزاروں تھےتباہ حال بہت زیر بام کس کا تھا
دوست بن کر بھی نہیں ساتھ نبھانے والاوہی انداز ہے ظالم کا زمانے والا
سر سے پا تک وہ گلابوں کا شجر لگتا ہےبا وضو ہو کے بھی چھوتے ہوئے ڈر لگتا ہے
عداوتیں تھیں، تغافل تھا، رنجشیں تھیں بہتبچھڑنے والے میں سب کچھ تھا، بے وفائی نہ تھی
یہ کون ہے سر ساحل کہ ڈوبنے والےسمندروں کی تہوں سے اچھل کے دیکھتے ہیں
وہ جو تعمیر ہونے والی تھیلگ گئی آگ اس عمارت میں
ملاتے ہو اسی کو خاک میں جو دل سے ملتا ہےمری جاں چاہنے والا بڑی مشکل سے ملتا ہے
قہقہہ آنکھ کا برتاؤ بدل دیتا ہےہنسنے والے تجھے آنسو نظر آئیں کیسے
محبت کرنے والے کم نہ ہوں گےتری محفل میں لیکن ہم نہ ہوں گے
جھوٹ والے کہیں سے کہیں بڑھ گئےاور میں تھا کہ سچ بولتا رہ گیا
اس گلی نے یہ سن کے صبر کیاجانے والے یہاں کے تھے ہی نہیں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books