aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ ".eihk"
ابراہیم اشکؔ
born.1951
شاعر
آہ سنبھلی
مصنف
عشق اورنگ آبادی
died.1780
بمل کرشن اشک
1924 - 1982
اوپندر ناتھ اشک
1910 - 1982
پروین کمار اشک
اشک الماس
born.1997
اشک رامپوری
1891 - 1958
اشک سنبھلی
1916 - 1977
صفدر آہ سیتاپوری
1903 - 1980
احسن احمد اشک
رجت گپتا عہد
1993 - 2020
اشک امرتسری
1904 - 1956
عشق عظیم آبادی
1770 - 1815
کے کے نندہ اشک
born.1939
سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیںسو اس کے شہر میں کچھ دن ٹھہر کے دیکھتے ہیں
اک عمر سے ہوں لذت گریہ سے بھی محروماے راحت جاں مجھ کو رلانے کے لیے آ
یہ مجھے چین کیوں نہیں پڑتاایک ہی شخص تھا جہان میں کیا
تو خدا ہے نہ مرا عشق فرشتوں جیسادونوں انساں ہیں تو کیوں اتنے حجابوں میں ملیں
بے وقت اگر جاؤں گا سب چونک پڑیں گےاک عمر ہوئی دن میں کبھی گھر نہیں دیکھا
اس کلیکشن میں ہم نے زبیر رضوی کی اُن نظموں کو شامل کیا ہے جو ایک سلسلے کا حصہ ہیں اور جن کی ابتدا "پرانی بات ہے" کے مصرعے سے ہوتی ہے۔
مقبول عام، ممتاز، ترقی پسند شاعر اور فلم نغمہ نگار۔ ہیر رانجھا اور کاغذ کے پھول کے گیتوں کے لئے مشہور۔
اس انتخاب میں مختلف شعرا کی تخلیق کردہ وہ نظمیں شامل کی گئی ہیں جن کا عنوان "رات" ہے۔ اس انتخاب کو پڑھنے سے ایک موضوع پر مختلف شعرا کے فکری کائنات کا پتا چلے گا۔
एक ایک
گنتی کا پہلا عدد ، واحد ، فرد (زوج کے بالمقابل) ، (ہندسوں میں) ۱ .
سنسکرت
'इश्क़ عِشْق
شدید جذبۂ محبت، گہری چاہت، محبّت، پریم، پیار
عربی
आँख آنکھ
وہ عضو جس سے دیکھتے ہیں، آلۂ بصارت
अश्क اَشْک
وہ پانی جو رنج تکلیف یا بے حد خوشی کے وقت آنکھوں میں امڈے، آنسو
فارسی
کئی چاند تھے سر آسماں
رشید اشرف خان
ناول تنقید
اردو تنقید پر ایک نظر
کلیم الدین احمد
تنقید
آر۔ پروگرامنگ ایک تعارف
ثنا رشید
سائنس
ساختیات: ایک تعارف
ناصر عباس نیر
مقالات/مضامین
اردو شاعری پر ایک نظر
شاعری تنقید
مارکسزم ایک مطالعہ
ظفر امام
عشق اور میں
محشر آفریدی
غزل
عورت ایک نفسیاتی مطالعہ
سیمون دی بووا
ترجمہ
ایک تھی سارا
امرتا پریتم
خواتین کے تراجم
ایک چادر میلی سی
راجندر سنگھ بیدی
معاشرتی
ن۔ م۔ راشد: ایک مطالعہ
جمیل جالبی
نظم تنقید
اسلامی علوم
عبد الوارث خاں
اسلامیات
عشق بخیر
رحمان فارس
مجموعہ
عشق آباد
عباس تابش
کلیات
کشف الحقائق
سید شرافت نو شاہی
تحقیق / تنقید
اک فرصت گناہ ملی وہ بھی چار دندیکھے ہیں ہم نے حوصلے پروردگار کے
نیا اک رشتہ پیدا کیوں کریں ہمبچھڑنا ہے تو جھگڑا کیوں کریں ہم
ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بد ناموہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا
عشق نے غالبؔ نکما کر دیاورنہ ہم بھی آدمی تھے کام کے
بھلے دنوں کی بات ہےبھلی سی ایک شکل تھی
کبھی خود پہ کبھی حالات پہ رونا آیابات نکلی تو ہر اک بات پہ رونا آیا
کچھ عشق کیا کچھ کام کیاوہ لوگ بہت خوش قسمت تھے
ہوش والوں کو خبر کیا بے خودی کیا چیز ہےعشق کیجے پھر سمجھئے زندگی کیا چیز ہے
ان کتابوں نے بڑا ظلم کیا ہے مجھ پران میں اک رمز ہے جس رمز کا مارا ہوا ذہن
ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیںابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں
عشق بھی کھیل ہے نصیبوں کاخاک ہو جائیں کیمیا ہو جائیں
موت کا ایک دن معین ہےنیند کیوں رات بھر نہیں آتی
ایک مدت سے تری یاد بھی آئی نہ ہمیںاور ہم بھول گئے ہوں تجھے ایسا بھی نہیں
کبھی تقدیر کا ماتم کبھی دنیا کا گلہمنزل عشق میں ہر گام پہ رونا آیا
سب سے نظر بچا کے وہ مجھ کو کچھ ایسے دیکھتاایک دفعہ تو رک گئی گردش ماہ و سال بھی
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books