aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "barii"
آسی الدنی
1893 - 1946
شاعر
عابد مناوری
born.1938
احمر ندیم
born.1998
راجیندر منچندا بانی
1932 - 1981
باقی صدیقی
1905 - 1972
مرزارضا برق ؔ
1790 - 1857
منظور ہاشمی
1935 - 2026
نظیر باقری
عبدالباری عارف جمالی
باری علیگ
1906 - 1949
مصنف
برق دہلوی
1884 - 1936
برقی اعظمی
1954 - 2022
باقی احمد پوری
born.1950
عبدالباری ندوی
died.1976
بدیع الزماں خاور
1938 - 1990
حادثوں کا حساب ہے اپناورنہ ہر آن سب کی باری ہے
شرم ہے اپنی بار باری کیبے سبب بار بار تھے ہم تو
وہی صد رنگ نالہ فرسائیوہی صد گونہ اشک باری ہے
فنا بھی ہو کے گراں باریٔ حیات نہ پوچھاٹھائے اٹھ نہیں سکتا یہ درد سر پھر بھی
وہ جنہیں تاب گراں باری ایام نہیںان کی پلکوں پہ شب و روز کو ہلکا کر دے
جدید اردو غزل کی طاقت ور ترین آوازوں میں شامل
عام زندگی میں سچ اور جھوٹ کی کیا منطق ہے ،سچ بولنا کتنا مشکل ہوتا ہے اور اس کے کیا خسارے ہوتے ہیں ،جھوٹ بظاہر کتنا طاقت ور اوراثر انداز ہوتا ہے ان سب باتوں کو شاعری میں کثرت سے موضوع بنایا گیا ہے ۔ ہمارے اس انتخاب میں جھوٹ، سچ اور ان کے ارد گرد پھیلے ہوئے معاملات کی کتھا پڑھئے۔
बारि'بارِع
عربی
جو نیکی یا علم میں زیادہ ہو
बारीباری
انگریزی, عربی, ہندی
(نمبروار کاموں یا شخصوں میں سے ہر ایک کا) نمبر، نوبت، داؤں، وقت
बन्नीبَنّی
ہندی
وہ اناج جو کھیت وغیرہ کے مزدور کو بطور اجرت دیا جائے۔
बनीبَنی
عربی, ہندی
بنا کی تانیث، دلھن، عروس
اسلامی تاریخ وتہذیب
تاریخ اسلام
خالق باری
امیر خسرو
تصوف
حمد باری
حاجی محمد شفیع
تاریخ کیا ہے؟
باری
تعلیم
تاریخ مجھے بری کردیگی
فیڈل کاسٹرو
عالمی
جامع الادویہ
عبد الباری
طب
لکھنؤ کے شعر و ادب کا معاشرتی و ثقافتی پس منظر
سید عبدالباری
شاعری تنقید
آدیباسی تہذیب و ثقافت
عبدالباری ایم کے
تہذیبی وثقافتی تاریخ
مبادی علم انسانی
مولوی عبد الباری
فلسفہ
اسلامی تاریخ و تہذیب
برکلے
سوانح حیات
لکھنؤ کے ادب کا معاشرتی و ثقافتی پس منظر
ڈاکٹر سید عبد الباری
تنقید
بڑی بڑی آنکھیں
اوپندر ناتھ اشک
ناول
لکھنؤ کا شعرو ادب
تاریخ ادب
کارل مارکس
وہ حضر بے برگ و ساماں وہ سفر بے سنگ و ميلوہ نمود اختر سیماب پا ہنگام صبح
قید میں ہے ترے وحشی کو وہی زلف کی یادہاں کچھ اک رنج گراں باری زنجیر بھی تھا
اڑان والو اڑانوں پہ وقت بھاری ہےپروں کی اب کے نہیں حوصلوں کی باری ہے
اب تو بس جان ہی دینے کی ہے باری اے نورؔمیں کہاں تک کروں ثابت کہ وفا ہے مجھ میں
نالۂ بلبل شیدا تو سنا ہنس ہنس کراب جگر تھام کے بیٹھو مری باری آئی
تخیل کو بری کرنے لگا ہوںمیں ذہنی خود کشی کرنے لگا ہوں
سب کو رسوا باری باری کیا کروہر موسم میں فتوے جاری کیا کرو
جوں شرر اے ہستیٔ بے بود یاںبارے ہم بھی اپنی باری بھر چلے
طواف کرتی ہے معصومیت یوں کمسن کاکہ قتل کر دے عدالت میں بھی تو صاف بری
شہر کا شہر سو گیا تابشؔاب مرے جاگنے کی باری ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books