aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "khafii"
کیفی اعظمی
1918 - 2002
شاعر
شارق کیفی
born.1961
کفیل آزر امروہوی
born.1940
عالم نظامی
born.1984
دتا تریہ کیفی
1866 - 1955
کیفی وجدانی
born.1932
کیفی حیدرآبادی
1880 - 1920
حنیف کیفی
1934 - 2021
مصنف
جیوتی آزاد کھتری
راشدالخیری
1868 - 1936
چندر بھان کیفی دہلوی
1878/79 - 1941
عباس کیفی
born.1986
حبیب کیفی
born.1945
مدیر
سید کفایت علی کافی
died.1858
جگجیت کافر
born.1979
کبھی تو بات بھی خفیکبھی سکوت بھی سخن
تا تراشی خواجۂ از برہمن کافر تریہے وہی ساز کہن مغرب کا جمہوری نظام
وہ کچھ نہیں ہے اب اک جنبش خفی کے سواخود اپنی کیفیت نیلگوں میں ہر لحظہ
تیرے ہونٹوں کی خفی سی لرزشاک حسیں شعر ہوا ہو جیسے
اک روز ہوئے تھے کچھ اشارات خفی سےعاشق ہیں ہم اس نرگس رعنا کے جبھی سے
مقبول عام، ممتاز، ترقی پسند شاعر اور فلم نغمہ نگار۔ ہیر رانجھا اور کاغذ کے پھول کے گیتوں کے لئے مشہور۔
خفا ہونا اور ایک دوسرے سے ناراض ہونا زندگی میں ایک عام سا عمل ہے لیکن شاعری میں خفگی کی جتنی صورتیں ہیں وہ عاشق اور معشوق کے درمیان کی ہیں ۔ شاعری میں خفا ہونے ، ناراض ہونے اور پھر راضی ہوجانے کا جو ایک دلچسپ کھیل ہے اس کی چند تصویریں ہم اس انتخاب میں آپ کے سامنے پیش کر رہے ہیں ۔
ख़फ़ीخَفی
عربی
پوشیدہ، پنہاں، چھپا ہوا
चलीچَلی
چلنا سے مشق، تراکیب میں مستعمل
ख़ाफ़ीخافی
چھپا ہوا، خفیہ، نہاں، پوشیدہ
भरीبَھری
ہندی
ایک تولہ یعنی بارہ ماشے کا وزن
منتخب اللباب
خافی خاں
ہندوستانی تاریخ
تاریخ اندور
ذکر خفی
شیخ محمود
رسالے
رسالہ در مشغولیت ذکر خفی
محمود بن الہداد بن حمید قریشی
ترجمہ
محمد ابوالفیض سعیدالدین
اردو میں نظم معرا اور آزاد نظم
نظم تنقید
علم قافیہ
ممتاز الرشید منہاس
زبان
ازالۃ الخفا عن خلافتہ الخلفا
شاہ ولی اللہ محدث دہلوی
اسلامیات
یاد کی رہ گزر
شوکت کیفی
خود نوشت
تین ترقی پسند شاعر : سردار، مجروح، کیفی
علی احمد فاطمی
تنقید
تذکیر بسورۃ الکہف
سید مناظر احسن گیلانی
اردو کی نئی کتاب
گوپی چند نارنگ
ادب اطفال
اردو شاعری میں سانٹ
شاعری تنقید
العروض والقوافی
جلال الدین احمد جعفری
علم عروض / عروض
کمالات عزیزی
تاثیر برق حسن جو ان کے سخن میں تھیاک لرزش خفی مرے سارے بدن میں تھی
خود کو دریافت کرنے نکلی ہوںیعنی خود سے کہیں خفی تھی میں
ہاتھوں کا ربط حرف خفی سے عجیب ہےہلتے ہیں ہاتھ راز کی باتوں کے ساتھ ساتھ
پھر اسی آواز کا موہوم عکسپھر وہی حرف خفی ہے اور میں
اتنی گریز پا تو نہ تھی عمر دوستیاے خندۂ خفی ترے اقرار کیا ہوئے
بن کے پیچھے ہے اک خفی ہلچلگرد پا کارواں ہے کیا معلوم
ازل لایزل ابد بے بدل جو بنے آج کل افق صد عملنہ کہیں تھے خفی نہ کہیں تھے جلی نہ کوئی تھا نشاں نہ کوئی نام تھا
جو سر خفی ہے وہ عین جلی ہےکھلا آج عقدہ یہ سر دہن کا
سکی مکھ صفحے پر تیرے لکھیا راقم ملک مصرعخفی خط سوں لکھیا نازک ترے دونوں پلک مصرع
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books