aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "mahzuuz"
محبوب خزاں
1930 - 2013
شاعر
ملک زادہ منظور احمد
1929 - 2016
ماہر القادری
1906 - 1978
مصنف
خواجہ عزیز الحسن مجذوب
1884 - 1944
منظور ہاشمی
1935 - 2026
تلوک چند محروم
1887 - 1966
محمود درویش
1941 - 2008
احمد محفوظ
born.1966
محمود شام
born.1940
محمود ایاز
1929 - 1997
زبیر قیصر
born.1975
محمود رامپوری
1865 - 1934
حکیم منظور
born.1937
اکرم محمود
اسلم محمود
جس میں یاران بزم ہوں محظوظیوں بقاؔ میں غزل سرائی کی
نغمہ سمجھ کے شور سے محظوظ ہوتی بھیڑانبوہ بیکراں میں کوئی چیختا کہ بس
میں نے چاہا تھا ترے درد سے محظوظ رہوںدرد بھی وہ کہ جسے میرؔ نہیں کھینچ سکا
آپ جل جائے مگر اوروں کو محظوظ کرےزندگی تم بھی گزارو یوں ہی صندل کی طرح
عالم کی میں نے سیر کی مجھ کو جو خوش آیا سو توسب سے رہا محظوظ تو تجھ کو نہ بھایا ایک میں
महज़ूज़ مَحْظُوظ
بہرہ مند، حصہ پانے والا، صاحب نصیب
عربی
महज़ून مَحزُون
महज़ूँ مَحْزُوں
جسے رنج پہنچا ہو، غمگین، رنجیدہ ، آزردہ، مغمون
महजूज़ مَحجُوز
حاجز کے ذریعے الگ کیا ہوا تاکہ حرارت اور برق نہ گزر سکے (انگ : Insulate) ۔
تحفۃ اللذات محبوبیہ (خوان نعمت آصفیہ)
غلام محبوب حیدرآبادی
دستر خوان
ہومیوپیتھک
ڈاکٹر ریکویگ
ہومیوپیتھی
محبوب ذی المنن تذکرہ اولیائے دکن
محمد عبد الجبار خان
تذکرہ
اردو سفرناموں کا تنقیدی مطالعہ
خالد محمود
سفر نامہ
لسانیات اور اردو
سید محمودالحسن رضوی
زبان
کشف المحجوب اردو
شیخ علی ہجویری
تصوف
پنجاب میں اردو
حافظ محمود شیرانی
تحقیق الانساب (تاریخ امروہہ)
محمود احمد عباسی
ہندوستانی تاریخ
اسرار خودی
علامہ اقبال
ترجمہ
کشکول مجذوب
انتخاب
اردو غزل کا تکنیکی، ہیئتی اور عروضی سفر
ارشد محمود ناشاد
غزل تنقید
محبوب ذی المنن تذکرۂ اولیاء دکن
خلافت معاویہ و یزید
تہذیبی وثقافتی تاریخ
اور جو بیٹھے رہیں تو ان سے تم محظوظ ہوجب ہمیں آتے ہیں تو گھبرا کے اٹھ جاتے ہو تم
سر پہ سورج ہے تو پھر چھاؤں سے محظوظ نہ ہودھوپ کا رنگ بھی دیوار میں آ سکتا ہے
یہ اور بات ہم ہی نہ محظوظ ہو سکےخوش رنگ زندگی کے نظارے ہوئے تو ہیں
رہے رقیب سے باہم وہ سیم بر محظوظہوا نہ آہ کا اپنے کبھی اثر محظوظ
محظوظ ہم بھی ہوں گے جو فرصت کہیں ملےگلشن بھی ہے گلاب بھی رنگ بہار بھی
بارش کا خوب صورت منظرمحظوظ کن تھا
وہ خود بھی نوجواں اردو کا شاعر ہےوہ اپنی شاعری سیل فون میں محفوظ کرتا ہے
رتبۂ تخت سے محروم ہے منصب میراصاحب فہم سمجھتے نہیں مطلب میرا
میرے ہر شعر سے محظوظ ہوئی ہے دنیامیرے ہر زخم کو دنیا نے گل تر جانا
ٹوٹا پھوٹا ہی سہی پھر بھی کشش رکھتا ہوںمجھ سے محظوظ تو ہو لو کہ کھلونا ہوں میں
دریغ چشم کرم سے نہ رکھ کہ اے ظالمکرے ہے دل کو مرے تیری یک نظر محظوظ
اس کی خوشبو سے سب ہوئے محظوظجو تھا اک آفتاب پھولوں کا
غیر مجھ کو جو کہتے ہیں محظوظتجھ سے ملتے ہیں رہتے ہیں محظوظ
میں جس کے ہجر سے محظوظ ہونا چاہتا ہوںمجھے وو شخص میسر ہے کیا کیا جائے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books