aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "qadr"
قدرعریضی
شاعر
قدر بلگرامی
1933 - 1884
ماہر القادری
1906 - 1978
مصنف
عبد القادر بیدل دہلوی
1644 - 1720
فصیح اکمل
born.1944
عبدالحفیظ ساحل قادری
ناز قادری
1940 - 2019
عشرت قادری
born.1926
مسرور شاہ جہاں پوری
born.1949
قدر اورنگ آبادی
died.1785
عبدالقادر
قادر صدیقی
born.1923
محی الدین قادری زور
1904 - 1962
شیخ عبد القادر جیلانی
1078 - 1166
عبدالقادر احقر عزیزی
میں جس کی آنکھ کا آنسو تھا اس نے قدر نہ کیبکھر گیا ہوں تو اب ریت سے اٹھائے مجھے
جوانی بھٹکتی ہے بد کار بن کرجواں جسم سجتے ہیں بازار بن کر
گاہے گاہے کی ملاقات ہی اچھی ہے امیرؔقدر کھو دیتا ہے ہر روز کا آنا جانا
تا بہ کے گرد ترے وہم و تعین کا حصارکوند کر مجلس خلوت سے نکلنا ہے تجھے
کس طرح تڑپتے جی بھر کر یاں ضعف نے مشکیں کس دیں ہیںہو بند اور آتش پر ہو چڑھا سیماب بھی وہ سیماب ہیں ہم
قبر کی تنگی، تاریکی اور اس سے وابستہ بہت سے بھیانک اور تکلیف دہ تصورات کو شاعری میں خوب برتا گیا ہے ۔ یہ اشعار زندگی میں رک کر سوچنے اور اپنا محاسبہ کرنے پر مجبور کرتے ہیں ۔ ہمارا یہ انتخاب پڑھئے اور زندگی کی حقیقتوں پر غور کیجئے ۔
क़द्रقَدْر
عربی
تقدیر الٰہی، فرمان خدا، تقدیر، حکم الٰہی (عموماً قضا کے ساتھ مستعمل)
बारبار
سنسکرت, فارسی, ہندی
مرتبہ، دفعہ، نوبت
बड़ेبَڑے
بڑا کی مغیرہ صورت یا جمع، ترکیبات میں مستعمل، یہ بزرگ، مربـّی، سرپرست
बड़ाبَڑا
سنسکرت, ہندی
مونْگ یا ارد کی تلی ہوئی ٹکیا (جو عموماً دہی میں ڈال کر کھاتے ہیں)
قواعد العروض
علم عروض / عروض
رشید احمد صدیقی : شخصیت اور ادبی قدر و قیمت
ابوالکلام قاسمی
مقالات/مضامین
مسئلہ جبر و قدر
مولانا ابوالاعلیٰ مودودی
اسلامیات
قدر پیمائش: تعلیمی اطلاق
سلطانہ شیخ
نثر
معاصر تھیوری اور تعین قدر
دانیال طریر
تحقیق و تنقید
تفہیم و تعین قدر
پروفیسر منظر حسین
تذکرہ
مسئلۂ جبر و قدر
مسائل شب برات و شب قدر
محمد رفعت قاسمی
انتخاب دیوان قدر بلگرامی
دیوان
قدر و نظر
اختر اورینوی
لیلۃ القدر
امیر مینائی
کلیات قدر
کلیات
ہماری قدر کرو اے سخن کے متواالو
میمونہ علی چوگلے
تنقید
ایاز قدر خود بشناس
مولوی محمد شمس الدین
بہار ادب
سکندر بیگ قدر کاکوروی
مجموعہ
ظلم سہہ کر جو اف نہیں کرتےان کے دل بھی عجیب ہوتے ہیں
مرے جذبے کی بڑی قدر ہے لوگوں میں مگرمیرے جذبے کو مرے ساتھ ہی مر جانا ہے
دل کو نیاز حسرت دیدار کر چکےدیکھا تو ہم میں طاقت دیدار بھی نہیں
اگر چاہیں تو وہ دیوار کر دیںہمیں اب کچھ نہیں کہنا زباں سے
آپ کیا جانیں قدر یا اللہجب مصیبت کوئی پڑی ہی نہیں
غربت کی ٹھنڈی چھاؤں میں یاد آئی اس کی دھوپقدر وطن ہوئی ہمیں ترک وطن کے بعد
آپ نے قدر کچھ نہ کی دل کیاڑ گئی مفت میں ہنسی دل کی
بساط بزم الٹ کر کہاں گیا ساقیفضا خموش، سبو چپ، اداس پیمانے
خود پہ جب دشت کی وحشت کو مسلط کروں گااس قدر خاک اڑاؤں گا قیامت کروں گا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books