aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "za.ngaar"
بہادر شاہ ظفر
1775 - 1862
شاعر
ظفر اقبال
born.1933
ظفر گورکھپوری
1935 - 2017
صابر ظفر
born.1949
مصور سبزواری
1932 - 2002
ظفر علی خاں
1873 - 1956
مصنف
ظفر اقبال ظفر
born.1940
سراج الدین ظفر
1912 - 1972
احمد ظفر
1926 - 2001
ظفر صہبائی
born.1946
ظفر غوری
سیماب ظفر
born.1985
ظفر کمالی
1959 - -
ظفر مرادآبادی
born.1951
ظفر امام
born.1963
کیا بد گماں ہے مجھ سے کہ آئینے میں مرےطوطی کا عکس سمجھے ہے زنگار دیکھ کر
اے رنگ اس میں سود ہے تیرا زیاں نہیںخوشبو اڑا کے لے گئی زنگار کو ترے
کیا دور ہے کہ مرہم زنگار کی جگہاب چارہ گر شراب چھڑکتے ہیں گھاؤ پر
لطافت بے کثافت جلوہ پیدا کر نہیں سکتیچمن زنگار ہے آئینۂ باد بہاری کا
چاہیے درمان ریش دل بھی تیغ یار سےمرم زنگار ہے وہ وسمۂ ابرو مجھے
ممتاز ترین جدید شاعروں میں معروف۔ رجحان سازشاعر
آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کے استاد اور ملک الشعرا۔ غالب کے ساتھ ان کی رقابت مشہور ہے
ज़ंगारزَنگار
فارسی
لوہے وغیرہ کا میل، زن٘گ
अंगारेاَنگارے
سنسکرت
انگارا جس کی یہ جمع یا مغیرہ حالت ہے
अंगाराاَنگارَہ
سنسکرت, فارسی
ابتدائی نقش، نقش ناتمام، خاکہ
सँवारسَنوار
سنسکرت, ہندی
(عور) بناؤ، درستی، اصلاح، (مجازاً) رحمت، مہربانی (بگاڑ اور مار کے بالمقابل)
مارکسزم ایک مطالعہ
تنقید
آب رواں
غزل
تقسیم ہند اور اردو افسانہ
ظفر سعید
فکشن تنقید
اردو کے نثری اسالیب
شہاب ظفر اعظمی
اب تک (کلیات غزل)
کلیات
تاریخ سندھ
سید ابو ظفر ندوی
ہندوستانی تاریخ
سلطان الشہداء حضرت سید سالار مسعود غازی
ظفر احسن بہرائچی
اسلم پرویز
تعلیمی نفسیات
مفتاح الدین ظفر
نفسیات
تاریخ ہند
ظفر احمد نظامی
آہنگ شعر
ابو ظفر عبدالواحد
علم عروض / عروض
کلیات بہادر شاہ ظفر
شبلی
ظفر احمد صدیقی
مونوگراف
اس آئنے کے مانند زنگار جس کو کھاوےکام اپنا اس کے غم میں دیدار تک نہ پہنچا
یہ بہاراں یہ شباب سبزۂ نورس نہ پوچھباغ کیا ہے معدن زنگار ہے تیرے بغیر
ہائے محتاج ہوا مرہم زنگار کا توزخم دل زہر مجھے ہنسنا ترا لگتا ہے
روح کو آلائش غم سے کبھی خالی نہ رکھیعنی بے زنگار کس کا آئنا روشن ہوا
پھر خواب خرد خوار سے بیدار ہوئے توہر ذہن پہ زنگار تھا ہر چشم گرو تھی
نہ کوئی عکس نہ زنگار رہا میرے لیےروح کے شیشہ کو شفاف بنانے والے
التیام زخم دل کے حق میں گر کیجے نگاہسبزۂ خط مرہم زنگار دونوں ایک ہیں
دور شب کا سرد ہاتآسماں کے خیمۂ زنگار کی
آئینوں میں چہروں کی سچائی دکھائی دیتی ہےکیا چہرے بھی ایسے ہی زنگار کیے جا سکتے ہیں
دیکھوں تو آئینے کا زنگار سلگتا ہےبند کروں تو آنکھوں کے انگارے جاتے ہیں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books