aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "shakra"
کشتئ حق کا زمانے میں سہارا تو ہےعصر نو رات ہے دھندلا سا ستارا تو ہے
خاک بر سر چلو خوں بداماں چلوراہ تکتا ہے سب شہر جاناں چلو
اک شہنشاہ نے دولت کا سہارا لے کرہم غریبوں کی محبت کا اڑایا ہے مذاق
وہ معلومات کے میدان کے شوقین بوڑھے تھےنہیں معلوم مجھ کو عام شہری کیسے ہوتے ہیں
شعلہ زاروں میں جلائی ہے جوانی میں نےشہر خوباں میں گنوائی ہے جوانی میں نے
میں نہ زندہ ہوں کہ مرنے کا سہارا ڈھونڈوںاور نہ مردہ ہوں کہ جینے کے غموں سے چھوٹوں
کتنی بے کار امیدوں کا سہارا لے کرمیں نے ایوان سجائے تھے کسی کی خاطر
جن کے قدموں کو کسی رہ کا سہارا بھی نہیںان کی نظروں پہ کوئی راہ اجاگر کر دے
آج کے بعد مگر رنگ وفا کیا ہوگاعشق حیراں ہے سر شہر صبا کیا ہوگا
جہاں زاد نو سال کا دور یوں مجھ پہ گزراکہ جیسے کسی شہر مدفون پر وقت گزرے
اور وہ جو مر گیا ہے سو ہے وہ بھی آدمیاشراف اور کمینے سے لے شاہ تا وزیر
کہیں ایسا نہ ہو پاؤں مرے تھرا جائیںاور تری مرمریں بانہوں کا سہارا نہ ملے
پندار فقیرانہاس شہر خموشی میں
کسی گیسو کسی آنچل کا سہارا بھی نہیںراستے میں کوئی دھندلا سا ستارہ بھی نہیں
ہاں مگر میری معیشت کا سہارا خواب ہیں!شام ہو جاتی ہے
بہت دنوں کی بات ہےفضا کو یاد بھی نہیں
دامن آسماں پہ نقش و نگارشانۂ بام پر دمکتا ہے
دلوں کو چاک کرے مثل شانہ جس کا اثرتری جناب سے ایسی ملے فغاں مجھ کو
تا ابد شہر ستم جس سے تبہ ہو جائیںاتنا تاریک کہ شمشان کی شب ہو جیسے
گیسوئے اردو ابھی منت پزیر شانہ ہےشمع یہ سودائی دل سوزئ پروانہ ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books