آب دیدہ شاعری

میں رونا چاہتا ہوں خوب رونا چاہتا ہوں میں

پھر اس کے بعد گہری نیند سونا چاہتا ہوں میں

فرحت احساس

اے دوست تجھ کو رحم نہ آئے تو کیا کروں

دشمن بھی میرے حال پہ اب آب دیدہ ہے

لالہ مادھو رام جوہر

طوفاں اٹھا رہا ہے مرے دل میں سیل اشک

وہ دن خدا نہ لائے جو میں آب دیدہ ہوں

نظیر اکبرآبادی

اداسی کھینچ لائی ہے یہاں تک

میں آنسو تھا سمندر میں پڑا ہوں

انجم سلیمی

وقت رخصت آب دیدہ آپ کیوں ہیں

جسم سے تو جاں ہماری جا رہی ہے

عزم شاکری

کیوں کھلونے ٹوٹنے پر آب دیدہ ہو گئے

اب تمہیں ہم کیا بتائیں کیا پریشانی ہوئی

آشفتہ چنگیزی

ایسی کیا بیت گئی مجھ پہ کہ جس کے باعث

آب دیدہ ہیں مرے ہنسنے ہنسانے والے

انجم سلیمی

جھلملاتے رہے وہ خواب جو پورے نہ ہوئے

درد بیدار ٹپکتا رہا آنسو آنسو

احمد مشتاق

واں سجدۂ نیاز کی مٹی خراب ہے

جب تک کہ آب دیدہ سے تازہ وضو نہ ہو

اسماعیل میرٹھی

ان کی یاد میں بہتے آنسو خشک اگر ہو جائیں گے

سات سمندر اپنی خالی آنکھوں میں بھر لاؤں گا

صادق

وہاں اب خواب گاہیں بن گئی ہیں

اٹھے تھے آب دیدہ ہم جہاں سے

رسا چغتائی

ہم تیری طبیعت کو خورشیدؔ نہیں سمجھے

پتھر نظر آتا تھا رویا تو بہت رویا

خورشید رضوی

کپڑے گلے کے میرے نہ ہوں آب دیدہ کیوں

مانند ابر دیدۂ تر اب تو چھا گیا

میر تقی میر

آب دیدہ ہوں میں خود زخم جگر سے اپنے

تیری آنکھوں میں چھپا درد کہاں سے دیکھوں

محمد اسد اللہ

طوفان جہل نے مرا جوہر مٹا دیا

میں اک کتاب خوب ہوں پر آب دیدہ ہوں

میر مہدی مجروح

یہ آب دیدہ ٹھہر جائے جھیل کی صورت

کہ ایک چاند کا ٹکڑا نہانا چاہتا ہے

مصطفی شہاب

کون اٹھ گیا ہے پاس سے میرے جو مصحفیؔ

روتا ہوں زار زار پڑا آب دیدہ ہوں

مصحفی غلام ہمدانی

ہم عشق تیرے ہاتھ سے کیا کیا نہ دیکھیں حالتیں

دیکھ آب دیدہ خوں نہ ہو خون جگر پانی نہ کر

مرزا اظفری

سیلاب چشم تر سے زمانہ خراب ہے

شکوے کہاں کہاں ہیں مرے آب دیدہ کے

نسیم دہلوی

رونا ہے اگر یہی تو قائمؔ

اک خلق کو ہم ڈبا رہے ہیں

قائم چاندپوری

رونے تلک تو کس کو ہے فرصت یہاں سحاب

طوفاں ہوا بھی جو ٹک اک آب دیدہ ہوں

شیخ ظہور الدین حاتم

اے ساکنان چرخ معلی بچو بچو

طوفاں ہوا بلند مرے آب دیدہ کا

نسیم دہلوی