noImage

منشی امیر اللہ تسلیم

1819 - 1911 | لکھنؤ, ہندوستان

مابعد کلاسکی شاعر،اپنے ضرب المثل اشعار کے لیے مشہور

مابعد کلاسکی شاعر،اپنے ضرب المثل اشعار کے لیے مشہور

744
Favorite

باعتبار

صبح ہوتی ہے شام ہوتی ہے

عمر یوں ہی تمام ہوتی ہے

دل لگی میں حسرت دل کچھ نکل جاتی تو ہے

بوسے لے لیتے ہیں ہم دو چار ہنستے بولتے

آس کیا اب تو امید ناامیدی بھی نہیں

کون دے مجھ کو تسلی کون بہلائے مجھے

ہم نے پالا مدتوں پہلو میں ہم کوئی نہیں

تم نے دیکھا اک نظر سے دل تمہارا ہو گیا

I nurtured it for ages but, it was nought to me

you saw it but a moment and it was your property

I nurtured it for ages but, it was nought to me

you saw it but a moment and it was your property

جانے دے صبر و قرار و ہوش کو

تو کہاں اے بے قراری جائے گی

خالی سہی بلا سے تسلی تو دل کو ہو

رہنے دو سامنے مرے ساغر شراب کا

ناصح خطا معاف سنیں کیا بہار میں

ہم اختیار میں ہیں نہ دل اختیار میں

تڑپتی دیکھتا ہوں جب کوئی شے

اٹھا لیتا ہوں اپنا دل سمجھ کر

عہد کے بعد لئے بوسے دہن کے اتنے

کہ لب زود پشیماں کو مکرنے نہ دیا

کیا خبر مجھ کو خزاں کیا چیز ہے کیسی بہار

آنکھیں کھولیں آ کے میں نے خانۂ صیاد میں

داستان شوق دل ایسی نہیں تھی مختصر

جی لگا کر تم اگر سنتے میں کہتا اور بھی

فکر ہے شوق کمر عشق دہاں پیدا کروں

چاہتا ہوں ایک دل میں دو مکاں پیدا کروں

گر یہی ہے پاس آداب سکوت

کس طرح فریاد لب تک آئے گی

دل دھڑکتا ہے شب غم میں کہیں ایسا نہ ہو

مرگ بھی بن کر مزاج یار ترسائے مجھے

زمانے سے نرالا ہے عروس فکر کا جوبن

جواں ہوتی ہے اے تسلیمؔ جب یہ پیر ہوتی ہے

عمر بھر رشک عدو ساتھ تھا کہتا کیا حال

وہ ملا بھی کبھی تنہا تو میں تنہا نہ ہوا

دماغ دے جو خدا گلشن محبت میں

ہر ایک گل سے ترے پیرہن کی بو آئے

کیجئے ایسا جہاں پیدا جہاں کوئی نہ ہو

ذرہ و اختر زمین و آسماں کوئی نہ ہو

بس کہ تھی رونے کی عادت وصل میں بھی یار سے

کہہ کے اپنا آپ حال آرزو رونے لگا

وقت روا روی ہے اٹھے قافلہ کے لوگ

ساقی چلے پیالہ جہاں تک کہ بس چلے