Abbas Tabish's Photo'

عباس تابش

1961 | لاہور, پاکستان

اہم پاکستانی شاعر جو مشاعروں میں بھی مقبول ہیں

اہم پاکستانی شاعر جو مشاعروں میں بھی مقبول ہیں

5.39K
Favorite

باعتبار

یہ محبت کی کہانی نہیں مرتی لیکن

لوگ کردار نبھاتے ہوئے مر جاتے ہیں

ایک مدت سے مری ماں نہیں سوئی تابشؔ

میں نے اک بار کہا تھا مجھے ڈر لگتا ہے

ہم ہیں سوکھے ہوئے تالاب پہ بیٹھے ہوئے ہنس

جو تعلق کو نبھاتے ہوئے مر جاتے ہیں

تیری روح میں سناٹا ہے اور مری آواز میں چپ

تو اپنے انداز میں چپ ہے میں اپنے انداز میں چپ

فقط مال و زر دیوار و در اچھا نہیں لگتا

جہاں بچے نہیں ہوتے وہ گھر اچھا نہیں لگتا

ہجر کو حوصلہ اور وصل کو فرصت درکار

اک محبت کے لیے ایک جوانی کم ہے

آنکھوں تک آ سکی نہ کبھی آنسوؤں کی لہر

یہ قافلہ بھی نقل مکانی میں کھو گیا

گھر پہنچتا ہے کوئی اور ہمارے جیسا

ہم ترے شہر سے جاتے ہوئے مر جاتے ہیں

اگر یونہی مجھے رکھا گیا اکیلے میں

بر آمد اور کوئی اس مکان سے ہوگا

بس ایک موڑ مری زندگی میں آیا تھا

پھر اس کے بعد الجھتی گئی کہانی میری

مجھ سے تو دل بھی محبت میں نہیں خرچ ہوا

تم تو کہتے تھے کہ اس کام میں گھر لگتا ہے

میں اپنے آپ میں گہرا اتر گیا شاید

مرے سفر سے الگ ہو گئی روانی مری

جھونکے کے ساتھ چھت گئی دستک کے ساتھ در گیا

تازہ ہوا کے شوق میں میرا تو سارا گھر گیا

عشق کر کے بھی کھل نہیں پایا

تیرا میرا معاملہ کیا ہے

اک محبت ہی پہ موقوف نہیں ہے تابشؔ

کچھ بڑے فیصلے ہو جاتے ہیں نادانی میں

مدت کے باد خواب میں آیا تھا میرا باپ

اور اوس نے مجھ حب الوطنی اتنا کہا خوش رہا کرو

مصروف ہیں کچھ اتنے کہ ہم کار محبت

آغاز تو کر لیتے ہیں جاری نہیں رکھتے

تری محبت میں گمرہی کا عجب نشہ تھا

کہ تجھ تک آتے ہوئے خدا تک پہنچ گئے ہیں

ابھی تو گھر میں نہ بیٹھیں کہو بزرگوں سے

ابھی تو شہر کے بچے سلام کرتے ہیں

ورنہ کوئی کب گالیاں دیتا ہے کسی کو

یہ اس کا کرم ہے کہ تجھے یاد رہا میں

محبت ایک دم دکھ کا مداوا کر نہیں دیتی

یہ تتلی بیٹھتی ہے زخم پر آہستہ آہستہ

بولتا ہوں تو مرے ہونٹ جھلس جاتے ہیں

اس کو یہ بات بتانے میں بڑی دیر لگی

تو بھی اے شخص کہاں تک مجھے برداشت کرے

بار بار ایک ہی چہرہ نہیں دیکھا جاتا

نہ خواب ہی سے جگایا نہ انتظار کیا

ہم اس دفعہ بھی چلے آئے چوم کر اس کو

رات کمرے میں نہ تھا میرے علاوہ کوئی

میں نے اس خوف سے خنجر نہ سرہانے رکھا

میرے سینے سے ذرا کان لگا کر دیکھو

سانس چلتی ہے کہ زنجیر زنی ہوتی ہے

ہم جڑے رہتے تھے آباد مکانوں کی طرح

اب یہ باتیں ہمیں لگتی ہیں فسانوں کی طرح

بیٹھے رہنے سے تو لو دیتے نہیں یہ جسم و جاں

جگنوؤں کی چال چلیے روشنی بن جائیے

جس سے پوچھیں ترے بارے میں یہی کہتا ہے

خوب صورت ہے وفادار نہیں ہو سکتا

پھر اس کے بعد یہ بازار دل نہیں لگنا

خرید لیجئے صاحب غلام آخری ہے

پس غبار بھی اڑتا غبار اپنا تھا

ترے بہانے ہمیں انتظار اپنا تھا

پہلے تو ہم چھان آئے خاک سارے شہر کی

تب کہیں جا کر کھلا اس کا مکاں ہے سامنے

وقت لفظوں سے بنائی ہوئی چادر جیسا

اوڑھ لیتا ہوں تو سب خواب ہنر لگتا ہے

میں جس سکون سے بیٹھا ہوں اس کنارے پر

سکوں سے لگتا ہے میرا قیام آخری ہے

رات کو جب یاد آئے تیری خوشبوئے قبا

تیرے قصے چھیڑتے ہیں رات کی رانی سے ہم

التجائیں کر کے مانگی تھی محبت کی کسک

بے دلی نے یوں غم نایاب واپس کر دیا

ان آنکھوں میں کودنے والو تم کو اتنا دھیان رہے

وہ جھیلیں پایاب ہیں لیکن ان کی تہہ پتھریلی ہے

یہ زندگی کچھ بھی ہو مگر اپنے لئے تو

کچھ بھی نہیں بچوں کی شرارت کے علاوہ

ہمارے جیسے وہاں کس شمار میں ہوں گے

کہ جس قطار میں مجنوں کا نام آخری ہے

ملتی نہیں ہے ناؤ تو درویش کی طرح

خود میں اتر کے پار اتر جانا چاہئے

میں ہوں اس شہر میں تاخیر سے آیا ہوا شخص

مجھ کو اک اور زمانے میں بڑی دیر لگی

یہ موج موج بنی کس کی شکل سی تابشؔ

یہ کون ڈوب کے بھی لہر لہر پھیل گیا

ہمیں تو اس لیے جائے نماز چاہئے ہے

کہ ہم وجود سے باہر قیام کرتے ہیں

یہ زمیں تو ہے کسی کاغذی کشتی جیسی

بیٹھ جاتا ہوں اگر بار نہ سمجھا جائے

مکیں جب نیند کے سائے میں سستانے لگیں تابشؔ

سفر کرتے ہیں بستی کے مکاں آہستہ آہستہ

طلسم خواب سے میرا بدن پتھر نہیں ہوتا

مری جب آنکھ کھلتی ہے میں بستر پر نہیں ہوتا

دے اسے بھی فروغ حسن کی بھیک

دل بھی لگ کر قطار میں آیا

موسم تمہارے ساتھ کا جانے کدھر گیا

تم آئے اور بور نہ آیا درخت پر

کچھ تو اپنی گردنیں کج ہیں ہوا کے زور سے

اور کچھ اپنی طبیعت میں اثر مٹی کا ہے

یہ تو اب عشق میں جی لگنے لگا ہے کچھ کچھ

اس طرف پہلے پہل گھیر کے لایا گیا میں