Abbas Tabish's Photo'

عباس تابش

1961 | لاہور, پاکستان

اہم پاکستانی شاعر جو مشاعروں میں بھی مقبول ہیں

اہم پاکستانی شاعر جو مشاعروں میں بھی مقبول ہیں

عباس تابش کے شعر

16.8K
Favorite

باعتبار

یہ محبت کی کہانی نہیں مرتی لیکن

لوگ کردار نبھاتے ہوئے مر جاتے ہیں

ایک مدت سے مری ماں نہیں سوئی تابشؔ

میں نے اک بار کہا تھا مجھے ڈر لگتا ہے

ہم ہیں سوکھے ہوئے تالاب پہ بیٹھے ہوئے ہنس

جو تعلق کو نبھاتے ہوئے مر جاتے ہیں

مدت کے بعد خواب میں آیا تھا میرا باپ

اور اس نے مجھ سے اتنا کہا خوش رہا کرو

ہجر کو حوصلہ اور وصل کو فرصت درکار

اک محبت کے لیے ایک جوانی کم ہے

جس سے پوچھیں ترے بارے میں یہی کہتا ہے

خوب صورت ہے وفادار نہیں ہو سکتا

شب کی شب کوئی نہ شرمندۂ رخصت ٹھہرے

جانے والوں کے لیے شمعیں بجھا دی جائیں

اگر یونہی مجھے رکھا گیا اکیلے میں

بر آمد اور کوئی اس مکان سے ہوگا

تیری روح میں سناٹا ہے اور مری آواز میں چپ

تو اپنے انداز میں چپ ہے میں اپنے انداز میں چپ

مصروف ہیں کچھ اتنے کہ ہم کار محبت

آغاز تو کر لیتے ہیں جاری نہیں رکھتے

فقط مال و زر دیوار و در اچھا نہیں لگتا

جہاں بچے نہیں ہوتے وہ گھر اچھا نہیں لگتا

جھونکے کے ساتھ چھت گئی دستک کے ساتھ در گیا

تازہ ہوا کے شوق میں میرا تو سارا گھر گیا

گھر پہنچتا ہے کوئی اور ہمارے جیسا

ہم ترے شہر سے جاتے ہوئے مر جاتے ہیں

چاند چہرے مجھے اچھے تو بہت لگتے ہیں

عشق میں اس سے کروں گا جسے اردو آئے

بس ایک موڑ مری زندگی میں آیا تھا

پھر اس کے بعد الجھتی گئی کہانی میری

مجھ سے تو دل بھی محبت میں نہیں خرچ ہوا

تم تو کہتے تھے کہ اس کام میں گھر لگتا ہے

محبت ایک دم دکھ کا مداوا کر نہیں دیتی

یہ تتلی بیٹھتی ہے زخم پر آہستہ آہستہ

عشق کر کے بھی کھل نہیں پایا

تیرا میرا معاملہ کیا ہے

میں اپنے آپ میں گہرا اتر گیا شاید

مرے سفر سے الگ ہو گئی روانی مری

آنکھوں تک آ سکی نہ کبھی آنسوؤں کی لہر

یہ قافلہ بھی نقل مکانی میں کھو گیا

بولتا ہوں تو مرے ہونٹ جھلس جاتے ہیں

اس کو یہ بات بتانے میں بڑی دیر لگی

یہ زندگی کچھ بھی ہو مگر اپنے لئے تو

کچھ بھی نہیں بچوں کی شرارت کے علاوہ

میرے سینے سے ذرا کان لگا کر دیکھو

سانس چلتی ہے کہ زنجیر زنی ہوتی ہے

میں جس سکون سے بیٹھا ہوں اس کنارے پر

سکوں سے لگتا ہے میرا قیام آخری ہے

اک محبت ہی پہ موقوف نہیں ہے تابشؔ

کچھ بڑے فیصلے ہو جاتے ہیں نادانی میں

نہ خواب ہی سے جگایا نہ انتظار کیا

ہم اس دفعہ بھی چلے آئے چوم کر اس کو

تری محبت میں گمرہی کا عجب نشہ تھا

کہ تجھ تک آتے ہوئے خدا تک پہنچ گئے ہیں

ابھی تو گھر میں نہ بیٹھیں کہو بزرگوں سے

ابھی تو شہر کے بچے سلام کرتے ہیں

تو بھی اے شخص کہاں تک مجھے برداشت کرے

بار بار ایک ہی چہرہ نہیں دیکھا جاتا

تم مانگ رہے ہو مرے دل سے مری خواہش

بچہ تو کبھی اپنے کھلونے نہیں دیتا

ورنہ کوئی کب گالیاں دیتا ہے کسی کو

یہ اس کا کرم ہے کہ تجھے یاد رہا میں

رات کمرے میں نہ تھا میرے علاوہ کوئی

میں نے اس خوف سے خنجر نہ سرہانے رکھا

وقت لفظوں سے بنائی ہوئی چادر جیسا

اوڑھ لیتا ہوں تو سب خواب ہنر لگتا ہے

ان آنکھوں میں کودنے والو تم کو اتنا دھیان رہے

وہ جھیلیں پایاب ہیں لیکن ان کی تہہ پتھریلی ہے

ایک محبت اور وہ بھی ناکام محبت

لیکن اس سے کام چلایا جا سکتا ہے

پھر اس کے بعد یہ بازار دل نہیں لگنا

خرید لیجئے صاحب غلام آخری ہے

رات کو جب یاد آئے تیری خوشبوئے قبا

تیرے قصے چھیڑتے ہیں رات کی رانی سے ہم

پس غبار بھی اڑتا غبار اپنا تھا

ترے بہانے ہمیں انتظار اپنا تھا

بیٹھے رہنے سے تو لو دیتے نہیں یہ جسم و جاں

جگنوؤں کی چال چلیے روشنی بن جائیے

میں اسے دیکھ کے لوٹا ہوں تو کیا دیکھتا ہوں

شہر کا شہر مجھے دیکھنے آیا ہوا ہے

ہم جڑے رہتے تھے آباد مکانوں کی طرح

اب یہ باتیں ہمیں لگتی ہیں فسانوں کی طرح

یہ تو اب عشق میں جی لگنے لگا ہے کچھ کچھ

اس طرف پہلے پہل گھیر کے لایا گیا میں

ملتی نہیں ہے ناؤ تو درویش کی طرح

خود میں اتر کے پار اتر جانا چاہئے

ہمارے جیسے وہاں کس شمار میں ہوں گے

کہ جس قطار میں مجنوں کا نام آخری ہے

پہلے تو ہم چھان آئے خاک سارے شہر کی

تب کہیں جا کر کھلا اس کا مکاں ہے سامنے

التجائیں کر کے مانگی تھی محبت کی کسک

بے دلی نے یوں غم نایاب واپس کر دیا

موسم تمہارے ساتھ کا جانے کدھر گیا

تم آئے اور بور نہ آیا درخت پر

میں ہوں اس شہر میں تاخیر سے آیا ہوا شخص

مجھ کو اک اور زمانے میں بڑی دیر لگی

ہمیں تو اس لیے جائے نماز چاہئے ہے

کہ ہم وجود سے باہر قیام کرتے ہیں

یہ موج موج بنی کس کی شکل سی تابشؔ

یہ کون ڈوب کے بھی لہر لہر پھیل گیا

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI

بولیے