امر ابدآبادی کے اشعار
چھپا کر دل میں لے جائیں گے جو جو دل پہ گزری ہے
ہم اس نا قدر دنیا کو یہ افسانے نہیں دیں گے
بتا اے شمع کس غم میں جلے گی
اگر جاں تجھ پہ پروانے نہ دیں گے
کہاں کی عاشقی کیسی محبت دل کا آنا کیا
ہوس کا نام مل کر رکھ لیا ہے عاشقی ہم نے
-
موضوع : طنز
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
کس لیے تیز ہوئی جاتی ہے دل کی دھڑکن
آپ نے دیکھا ہے مجھ کو کہیں ایسا تو نہیں
عشق اور مشک چھپائے کہیں چھپتے ہیں امرؔ
لاکھ پردہ کرو دنیا سے یہ پردا تو نہیں
تمہاری بزم میں ہر دو طرف تھی ایک مجبوری
نہ تم نے مد بھری آنکھیں اٹھائیں اور نہ پی ہم نے
اپنے گرنے کا تو افسوس نہیں ہے مجھ کو
دیکھنا یہ ہے کسی نے مجھے دیکھا تو نہیں
-
موضوع : رسوائی
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
ملیں گے آپ بھی دست تأسف
اگر ہم کو سکوں پانے نہ دیں گے
-
موضوع : سکون
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
نہ کرتے ان سے اظہار تمنا ہم تو اچھا تھا
تمنا تو گنوائی تھی گنوائی بات بھی ہم نے
-
موضوع : اظہار
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
دیکھا جائے گا ان کی محفل میں
میں نہیں آج یا رقیب نہیں
-
موضوع : رقیب
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
بہت دیکھا ہے ہم نے ان کا وعدہ
انہیں اب دل کو بہکانے نہ دیں گے
ہمیں خواہ عام ہی کرنا پڑے فیضان مے خانہ
مگر ہم شیخ کو دنیا کو بہکانے نہیں دیں گے
ہم بہکتے کبھی نہ یوں ساقی
تیرے ہاتھوں جو پی نہیں ہوتی
یوں تو تقدیر سے ہیں سب بے بس
عشق سی بے بسی نہیں ہوتی
-
موضوع : بےبسی
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
ان سے ملنا تو کچھ نہیں مشکل
لیکن ایسے مرے نصیب نہیں
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ