Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Amar Abdabadi's Photo'

امر ابدآبادی

1910 - 1992 | چندی گڑھ, انڈیا

اردو ادیب، صحافی، شاعر اور مدیر، اردو صحافت، قومی یکجہتی اور ادبی خدمات کے میدان میں نمایاں کردار ادا کیا

اردو ادیب، صحافی، شاعر اور مدیر، اردو صحافت، قومی یکجہتی اور ادبی خدمات کے میدان میں نمایاں کردار ادا کیا

امر ابدآبادی کے اشعار

33
Favorite

باعتبار

چھپا کر دل میں لے جائیں گے جو جو دل پہ گزری ہے

ہم اس نا قدر دنیا کو یہ افسانے نہیں دیں گے

بتا اے شمع کس غم میں جلے گی

اگر جاں تجھ پہ پروانے نہ دیں گے

کہاں کی عاشقی کیسی محبت دل کا آنا کیا

ہوس کا نام مل کر رکھ لیا ہے عاشقی ہم نے

کس لیے تیز ہوئی جاتی ہے دل کی دھڑکن

آپ نے دیکھا ہے مجھ کو کہیں ایسا تو نہیں

عشق اور مشک چھپائے کہیں چھپتے ہیں امرؔ

لاکھ پردہ کرو دنیا سے یہ پردا تو نہیں

تمہاری بزم میں ہر دو طرف تھی ایک مجبوری

نہ تم نے مد بھری آنکھیں اٹھائیں اور نہ پی ہم نے

اپنے گرنے کا تو افسوس نہیں ہے مجھ کو

دیکھنا یہ ہے کسی نے مجھے دیکھا تو نہیں

ملیں گے آپ بھی دست تأسف

اگر ہم کو سکوں پانے نہ دیں گے

نہ کرتے ان سے اظہار تمنا ہم تو اچھا تھا

تمنا تو گنوائی تھی گنوائی بات بھی ہم نے

دیکھا جائے گا ان کی محفل میں

میں نہیں آج یا رقیب نہیں

بہت دیکھا ہے ہم نے ان کا وعدہ

انہیں اب دل کو بہکانے نہ دیں گے

ہمیں خواہ عام ہی کرنا پڑے فیضان مے خانہ

مگر ہم شیخ کو دنیا کو بہکانے نہیں دیں گے

ہم بہکتے کبھی نہ یوں ساقی

تیرے ہاتھوں جو پی نہیں ہوتی

یوں تو تقدیر سے ہیں سب بے بس

عشق سی بے بسی نہیں ہوتی

ان سے ملنا تو کچھ نہیں مشکل

لیکن ایسے مرے نصیب نہیں

Recitation

بولیے