Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
aqeel nomani's Photo'

عقیل نعمانی

1958 | بریلی, انڈیا

معاصر شاعر، مشاعروں میں مقبول

معاصر شاعر، مشاعروں میں مقبول

عقیل نعمانی کے اشعار

721
Favorite

باعتبار

مسکرانے کی کیا ضرورت ہے

آپ یوں بھی اداس لگتے ہیں

لگتا ہے کہیں پیار میں تھوڑی سی کمی تھی

اور پیار میں تھوڑی سی کمی کم نہیں ہوتی

کچھ دیر اس نے دیکھ لیا چاند کی طرف

کچھ دیر آج چاند کو اترانا چاہئے

مسافر ترا ذکر کرتے رہے

مہکتا رہا راستہ دیر تک

بڑی ہی کربناک تھی وہ پہلی رات ہجر کی

دوبارہ دل میں ایسا درد آج تک نہیں ہوا

بس اتنی سی بات تھی اس کی زلف ذرا لہرائی تھی

خوف زدہ ہر شام کا منظر سہمی سی ہر رات ملی

پوچھو ذرا یہ کون سی دنیا سے آئے ہیں

کچھ لوگ کہہ رہے ہیں ہمیں کوئی غم نہیں

مری وحشت مرے صحرا میں ان کو ڈھونڈھتی ہے

جو تھے دو چار چہرے جانے پہچانے سے پہلے

خبر ہے کوئی چارہ گر آئے گا

سلیقے سے بیٹھے ہیں بیمار سب

انگنت سفینوں میں دیپ جگمگاتے ہیں

رات نے لٹایا ہے رنگ و نور پانی پر

کبھی تمام تو کر بد گمانیوں کا سفر

کسی بہانے کسی روز آزما تو سہی

دل کئی سال سے مرگھٹ کی طرح سونا ہے

ہم کئی سال سے روشن ہیں چتاؤں کی طرح

ہم کیسے زندہ ہیں اب تک

ہم کو بھی حیرت ہوتی ہے

سنی اندھیروں کی سگبگاہٹ تو شام یادوں کی کہکشاں سے

چھپے ہوئے ماہتاب نکلے بجھے ہوئے آفتاب نکلے

وحشی رقص چمکتے خنجر سرخ الاؤ

جنگل جنگل کانٹے دار قبیلے پھول

تھا زہر کو ہونٹوں سے لگانا ہی مناسب

ورنہ یہ مری تشنہ لبی کم نہیں ہوتی

اب سنگ باریوں کا عمل سرد پڑ گیا

اب اس طرف بھی رنج مرے ٹوٹنے کا ہے

جس کو چاہا بس اسی کا راستہ تکتے رہے

پتھروں کی جستجو میں خود کو پتھر کر لیا

غیر چہرے اجنبی ماحول مبہم سے نقوش

میں جہاں پہنچا وہی میرا وطن ثابت ہوا

بے سبب دونوں میں ہر ایک کو دلچسپی تھی

اور ہر ایک سے بیزار تھے ہم بھی تم بھی

بے سبب دونوں میں ہر ایک کو دلچسپی تھی

اور ہر ایک سے بیزار تھے ہم بھی تم بھی

نظر بچائے گزر جاؤں پاس سے اس کے

اسے بھی آج ذرا سا ڈرا دیا جائے

بے سبب دونوں میں ہر ایک کو دلچسپی تھی

اور ہر ایک سے بیزار تھے ہم بھی تم بھی

ہمیں بھی وقت کے طوفان مل کر کھا گئے آخر

ہر اک کشتی کو مل جاتا ہے ساحل ہم بھی کہتے تھے

Recitation

Jashn-e-Rekhta | 8-9-10 December 2023 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate - New Delhi

GET YOUR PASS
بولیے