Dattatriya Kaifi's Photo'

دتا تریہ کیفی

1866 - 1955 | دلی, ہندوستان

عربی، فارسی اور سنسکرت کے ممتاز اسکالر

عربی، فارسی اور سنسکرت کے ممتاز اسکالر

180
Favorite

باعتبار

عشق نے جس دل پہ قبضہ کر لیا

پھر کہاں اس میں نشاط و غم رہے

کوئی دل لگی دل لگانا نہیں ہے

قیامت ہے یہ دل کا آنا نہیں ہے

دیر و کعبہ میں بھٹکتے پھر رہے ہیں رات دن

ڈھونڈھنے سے بھی تو بندوں کو خدا ملتا نہیں

وفا پر دغا صلح میں دشمنی ہے

بھلائی کا ہرگز زمانہ نہیں ہے

الجھا ہی رہنے دو زلفوں کو صنم

جو نہ کھل جائیں بھرم اچھے ہیں

سچ ہے ان دونوں کا ہے اک عالم

میری تنہائی تیری یکتائی

وہ کہا کرتے ہیں کوٹھوں چڑھی ہونٹوں نکلی

دل میں ہی رکھنا جو کل رات ہوا کوٹھے پر

اک خواب کا خیال ہے دنیا کہیں جسے

ہے اس میں اک طلسم تمنا کہیں جسے

سیل گریہ کی بدولت یہ ہوا گھر کا حال

خاک تک بھی نہ ملی بہر تیمم مجھ کو

یوں آؤ مرے پہلو میں تم گھر سے نکل کر

بو آتی ہے جس طرح گل تر سے نکل کر

تلخ کہتے تھے لو اب پی کے تو بولو زاہد

ہاتھ آئے ادھر استاد مزا ہے کہ نہیں

معلوم ہے وعدے کی حقیقت

بہلا لیتے ہیں اپنے جی کو

جو چشم دل ربا کے وصف میں اشعار لکھتا ہوں

تو ہر ہر لفظ پر اہل نظر اک صاد کرتے ہیں

عقدۂ قسمت نہیں کھلتا مرا

یہ بھی ترا بند قبا ہو گیا

بول اٹھتی کبھی چڑیا جو تری انگیا کی

خوشنوائی کی نہ یوں جیتتی بلبل پالی

نفس کو مار کر ملے جنت

یہ سزا قابل قیاس نہیں

حال دل لکھتے نہ لوگوں کی زباں میں پڑتے

وجہ انگشت نمائی یہ قلم ہے ہم کو

سب کچھ ہے اور کچھ بھی نہیں دہر کا وجود

کیفیؔ یہ بات وہ ہے معما کہیں جسے

کہنے کو تو کہہ گئے ہو سب کچھ

اب کوئی جواب دے تو کیا ہو

ڈھونڈھنے سے یوں تو اس دنیا میں کیا ملتا نہیں

سچ اگر پوچھو تو سچا آشنا ملتا نہیں

تم سے اب کیا کہیں وہ چیز ہے داغ غم عشق

کہ چھپائے نہ چھپے اور دکھائے نہ بنے

رہنے دے ذکر خم زلف مسلسل کو ندیم

اس کے تو دھیان سے بھی ہوتا ہے دل کو الجھاؤ

وضو ہوتا ہے یاں تو شیخ اسی آب‌‌ گلابی سے

تیمم کے لئے تم خاک جا کر دشت میں پھانکو

دم غنیمت ہے سالکو میرا

جرس دور کی صدا ہوں میں

خبر کسے صبح و شام کی ہے تعینات اور قیود کیسے

نماز کس کی وہاں کسی کو خیال تک بھی نہیں وضو کا

معجزہ حضرت عیسیٰ کا تھا بے شبہ درست

کہ میں دنیا سے گیا اٹھ جو کہا قم مجھ کو

یا الٰہی مجھ کو یہ کیا ہو گیا

دوستی کا تیری سودا ہو گیا

ہے عکس آئنہ دل میں کسی بلقیس ثانی کا

تصور ہے مرا استاد بہزاد اور مانی کا

بادبانوں میں بھری ہے اس کے کیا باد نفس

کشتئ عمر رواں کو تاب لنگر کی نہیں

شمع رویوں کی محبت کا جو دم بھرتے ہیں

ایک مدت وہ ابھی بیعت پروانہ کریں

اصل وحدت کی بنا ہے عدم غیریت

اس کا جب رنگ جما غیر کو اپنا جانا

جو دل و ایماں نہ دیں نذراں بتوں کو دیکھ کر

یا خدا وہ لوگ اس دنیا میں آئے کس لئے