Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Deepesh Sharma Soubhari's Photo'

دپیش شرما سوبھری

1998 - 2024 | جبل پور, انڈیا

دپیش شرما سوبھری کے اشعار

1
Favorite

باعتبار

تمہارا ساتھ مل جانے سے پہلے

اکیلا پن مجھے کھلتا نہیں تھا

سکوں تم زہر کھا کر پا گئے ہو

یہاں قسطوں میں ہم تو مر رہے ہیں

یوں بھی اس کو بھولنا دشوار ہے

اور اس میں عیب بھی کوئی نہیں

اب پرندے بھی اس کو چھوڑ چلے

یہ شجر جلد گرنے والا ہے

اس کو دنیا دار بنایا

دیکھ رکھی تھی دنیا ہم نے

کچھ اس لئے بھی میں چپ ہوں ترے ستانے پر

میں چاہتا ہوں مرا ضبط اک مثال بنے

بس ٹوٹی کشتی ہی بتلا سکتی ہے

اک دریا کی کتنی شکلیں ہوتی ہیں

پہلے تو بنوائی جاتی ہے کھڑکی

پھر اس میں پردہ لگوایا جاتا ہے

اک مدت کا پیاسا یہ کیسے سمجھے

دریا کے آگے بھی رستہ جاتا ہے

اب اسے دیکھ کے خوش ہوں تو گماں ہوتا ہے

اس کی آنکھوں نے بہت راہ تکی ہے میری

آنکھوں کو بینائی چبھنے لگتی ہے

دنیا میں کچھ منظر ایسے ہوتے ہیں

وہ اگر محو دعا ہو تو اسے اپنا کہیں

ورنہ اک بار تو دنیا بھی دعا کرتی ہے

میرے عیب اجاگر ہونا لازم ہے

اجلی ہو دیوار تو دھبے دکھتے ہیں

راہ کے نقش پا بتاتے ہیں

بوجھ کتنا تھا اس مسافر پر

میں ہواؤں سے لڑا ہوں جس کی خاطر عمر بھر

اس دئیے نے ہی مرے گھر کو جلا کر رکھ دیا

دھند نے چھین لی تھی بینائی

اور ہم تھے دئیے جلاتے رہے

ریگزاروں میں بیج بو کر ہم

ابر پر تہمتیں لگاتے رہے

ہمیں ہی نہیں دستکوں کا شعور

وگرنہ وہ دروازہ کھلتا تو ہے

دھوپ اتنی تیز تھی کہنا پڑا

سائے کی مجھ کو ضرورت ہی نہیں

جو کشتی توڑتے ہو پار آ کر

کہیں پھر لوٹ کر جانا پڑا تو

ہم کو تھوڑا رونے دو کھل جائے گا

ہم نے کس کے کتنے آنسو پونچھے ہیں

تمہارا گاؤں آئے گا سفر میں

سو کھڑکی کی طرف بیٹھے نہیں ہم

آئنہ آئنوں سے بھڑنے لگے

دے گیا ایسا مشورہ کوئی

جرم میں میرے ہوئے تم بھی شریک

اب مرا ذوق ندامت بھی گیا

پہلو میں جس کے رات ہے اور خواب منتظر

بیٹھی ہے اس سے نیند کنارا کئے ہوئے

فکر مالی کی بڑھنے والی ہے

پیڑ پھل دار ہونے والے ہیں

اب خواہش ثواب نہ سجدے کی ہے غرض

مولا بھی مست مست ہے بندا بھی مست مست

Recitation

بولیے