دپیش شرما سوبھری کے اشعار
تمہارا ساتھ مل جانے سے پہلے
اکیلا پن مجھے کھلتا نہیں تھا
سکوں تم زہر کھا کر پا گئے ہو
یہاں قسطوں میں ہم تو مر رہے ہیں
یوں بھی اس کو بھولنا دشوار ہے
اور اس میں عیب بھی کوئی نہیں
اب پرندے بھی اس کو چھوڑ چلے
یہ شجر جلد گرنے والا ہے
اس کو دنیا دار بنایا
دیکھ رکھی تھی دنیا ہم نے
کچھ اس لئے بھی میں چپ ہوں ترے ستانے پر
میں چاہتا ہوں مرا ضبط اک مثال بنے
بس ٹوٹی کشتی ہی بتلا سکتی ہے
اک دریا کی کتنی شکلیں ہوتی ہیں
پہلے تو بنوائی جاتی ہے کھڑکی
پھر اس میں پردہ لگوایا جاتا ہے
اک مدت کا پیاسا یہ کیسے سمجھے
دریا کے آگے بھی رستہ جاتا ہے
اب اسے دیکھ کے خوش ہوں تو گماں ہوتا ہے
اس کی آنکھوں نے بہت راہ تکی ہے میری
آنکھوں کو بینائی چبھنے لگتی ہے
دنیا میں کچھ منظر ایسے ہوتے ہیں
وہ اگر محو دعا ہو تو اسے اپنا کہیں
ورنہ اک بار تو دنیا بھی دعا کرتی ہے
میرے عیب اجاگر ہونا لازم ہے
اجلی ہو دیوار تو دھبے دکھتے ہیں
راہ کے نقش پا بتاتے ہیں
بوجھ کتنا تھا اس مسافر پر
میں ہواؤں سے لڑا ہوں جس کی خاطر عمر بھر
اس دئیے نے ہی مرے گھر کو جلا کر رکھ دیا
دھند نے چھین لی تھی بینائی
اور ہم تھے دئیے جلاتے رہے
ریگزاروں میں بیج بو کر ہم
ابر پر تہمتیں لگاتے رہے
ہمیں ہی نہیں دستکوں کا شعور
وگرنہ وہ دروازہ کھلتا تو ہے
دھوپ اتنی تیز تھی کہنا پڑا
سائے کی مجھ کو ضرورت ہی نہیں
جو کشتی توڑتے ہو پار آ کر
کہیں پھر لوٹ کر جانا پڑا تو
ہم کو تھوڑا رونے دو کھل جائے گا
ہم نے کس کے کتنے آنسو پونچھے ہیں
تمہارا گاؤں آئے گا سفر میں
سو کھڑکی کی طرف بیٹھے نہیں ہم
آئنہ آئنوں سے بھڑنے لگے
دے گیا ایسا مشورہ کوئی
جرم میں میرے ہوئے تم بھی شریک
اب مرا ذوق ندامت بھی گیا
پہلو میں جس کے رات ہے اور خواب منتظر
بیٹھی ہے اس سے نیند کنارا کئے ہوئے
فکر مالی کی بڑھنے والی ہے
پیڑ پھل دار ہونے والے ہیں
اب خواہش ثواب نہ سجدے کی ہے غرض
مولا بھی مست مست ہے بندا بھی مست مست