Ehsan Danish's Photo'

احسان دانش

1915 - 1982 | لاہور, پاکستان

بیسویں صدی کی چوتھی اور پانچویں دہائیوں کے مقبول ترین شاعروں میں شامل، فیض احمد فیض کے ہم عصر

بیسویں صدی کی چوتھی اور پانچویں دہائیوں کے مقبول ترین شاعروں میں شامل، فیض احمد فیض کے ہم عصر

1.28K
Favorite

باعتبار

یہ اڑی اڑی سی رنگت یہ کھلے کھلے سے گیسو

تری صبح کہہ رہی ہے تری رات کا فسانہ

آج اس نے ہنس کے یوں پوچھا مزاج

عمر بھر کے رنج و غم یاد آ گئے

میں حیراں ہوں کہ کیوں اس سے ہوئی تھی دوستی اپنی

مجھے کیسے گوارہ ہو گئی تھی دشمنی اپنی

وفا کا عہد تھا دل کو سنبھالنے کے لئے

وہ ہنس پڑے مجھے مشکل میں ڈالنے کے لئے

اور کچھ دیر ستارو ٹھہرو

اس کا وعدہ ہے ضرور آئے گا

کس کس کی زباں روکنے جاؤں تری خاطر

کس کس کی تباہی میں ترا ہاتھ نہیں ہے

حسن کو دنیا کی آنکھوں سے نہ دیکھ

اپنی اک طرز نظر ایجاد کر

احسانؔ اپنا کوئی برے وقت کا نہیں

احباب بے وفا ہیں خدا بے نیاز ہے

احسانؔ ایسا تلخ جواب وفا ملا

ہم اس کے بعد پھر کوئی ارماں نہ کر سکے

I, to my troth, such a bitter response did obtain

after that I could never hope to hope again

I, to my troth, such a bitter response did obtain

after that I could never hope to hope again

رہتا نہیں انسان تو مٹ جاتا ہے غم بھی

سو جائیں گے اک روز زمیں اوڑھ کے ہم بھی

کون دیتا ہے محبت کو پرستش کا مقام

تم یہ انصاف سے سوچو تو دعا دو ہم کو

ضبط بھی صبر بھی امکان میں سب کچھ ہے مگر

پہلے کم بخت مرا دل تو مرا دل ہو جائے

لوگ یوں دیکھ کے ہنس دیتے ہیں

تو مجھے بھول گیا ہو جیسے

ہاں آپ کو دیکھا تھا محبت سے ہمیں نے

جی سارے زمانے کے گنہ گار ہمیں تھے

نہ جانے محبت کا انجام کیا ہے

میں اب ہر تسلی سے گھبرا رہا ہوں

کچھ لوگ جو سوار ہیں کاغذ کی ناؤ پر

تہمت تراشتے ہیں ہوا کے دباؤ پر

تم سادہ مزاجی سے مٹے پھرتے ہو جس پر

وہ شخص تو دنیا میں کسی کا بھی نہیں ہے

خاک سے سینکڑوں اگے خورشید

ہے اندھیرا مگر چراغ تلے

بلا سے کچھ ہو ہم احسانؔ اپنی خو نہ چھوڑیں گے

ہمیشہ بے وفاؤں سے ملیں گے باوفا ہو کر

اٹھا جو ابر دل کی امنگیں چمک اٹھیں

لہرائیں بجلیاں تو میں لہرا کے پی گیا

دل کی شگفتگی کے ساتھ راحت مے کدہ گئی

فرصت مے کشی تو ہے حسرت مے کشی نہیں

شورش عشق میں ہے حسن برابر کا شریک

سوچ کر جرم تمنا کی سزا دو ہم کو

ہم حقیقت ہیں تو تسلیم نہ کرنے کا سبب

ہاں اگر حرف غلط ہیں تو مٹا دو ہم کو

میں جس رفتار سے طوفاں کی جانب بڑھتا جاتا ہوں

اسی رفتار سے نزدیک ساحل ہوتا جاتا ہے

یہ کون ہنس کے صحن چمن سے گزر گیا

اب تک ہیں پھول چاک گریباں کئے ہوئے

ستا لو مجھے زندگی میں ستا لو

کھلے گا پس مرگ احسان کیا تھا

مرنے والے فنا بھی پردہ ہے

اٹھ سکے گر تو یہ حجاب اٹھا

دمک رہا ہے جو نس نس کی تشنگی سے بدن

اس آگ کو نہ ترا پیرہن چھپائے گا

زخم پہ زخم کھا کے جی اپنے لہو کے گھونٹ پی

آہ نہ کر لبوں کو سی عشق ہے دل لگی نہیں

مقصد زیست غم عشق ہے صحرا ہو کہ شہر

بیٹھ جائیں گے جہاں چاہو بٹھا دو ہم کو

کچھ اپنے ساز نفس کی نہ قدر کی تو نے

کہ اس رباب سے بہتر کوئی رباب نہ تھا

ہم چٹانیں ہیں کوئی ریت کے ساحل تو نہیں

شوق سے شہر پناہوں میں لگا دو ہم کو

یہ اجالوں کے جزیرے یہ سرابوں کے دیار

سحر‌ و افسوں کے سوا جشن طرب کچھ بھی نہیں

جو دے رہے ہو زمیں کو وہی زمیں دے گی

ببول بوئے تو کیسے گلاب نکلے گا

سنتا ہوں سرنگوں تھے فرشتے مرے حضور

میں جانے اپنی ذات کے کس مرحلے میں تھا

کسے خبر تھی کہ یہ دور خود غرض اک دن

جنوں سے قیمت دار و رسن چھپائے گا

ایسے انجان بنے بیٹھے ہو

تم کو کچھ بھی نہ پتا ہو جیسے

فسون شعر سے ہم اس مہ گریزاں کو

خلاؤں سے سر کاغذ اتار لائے ہیں

بجز اس کے احسانؔ کو کیا سمجھئے

بہاروں میں کھویا ہوا اک شرابی