Etibar Sajid's Photo'

اعتبار ساجد

1948 | اسلام آباد, پاکستان

غزل 45

نظم 2

 

اشعار 31

میں تکیے پر ستارے بو رہا ہوں

جنم دن ہے اکیلا رو رہا ہوں

  • شیئر کیجیے

کسی کو سال نو کی کیا مبارک باد دی جائے

کلینڈر کے بدلنے سے مقدر کب بدلتا ہے

  • شیئر کیجیے

اب تو خود اپنی ضرورت بھی نہیں ہے ہم کو

وہ بھی دن تھے کہ کبھی تیری ضرورت ہم تھے

ای- کتاب 3

بھارت میں چند روز

 

1989

پذیرائی

 

1987

چہارسو

اعتبار ساجد نمبر ،جلد نمبر025

2016

 

تصویری شاعری 6

ترے جیسا میرا بھی حال تھا نہ سکون تھا نہ قرار تھا یہی عمر تھی مرے ہم_نشیں کہ کسی سے مجھ کو بھی پیار تھا میں سمجھ رہا ہوں تری کسک ترا میرا درد ہے مشترک اسی غم کا تو بھی اسیر ہے اسی دکھ کا میں بھی شکار تھا فقط ایک دھن تھی کہ رات_دن اسی خواب_زار میں گم رہیں وہ سرور ایسا سرور تھا وہ خمار ایسا خمار تھا کبھی لمحہ_بھر کی بھی گفتگو مری اس کے ساتھ نہ ہو سکی مجھے فرصتیں نہیں مل سکیں وہ ہوا کے رتھ پر سوار تھا ہم عجیب طرز کے لوگ تھے کہ ہمارے اور ہی روگ تھے میں خزاں میں اس کا تھا منتظر اسے انتظار_بہار تھا اسے پڑھ کے تم نہ سمجھ سکے کہ مری کتاب کے روپ میں کوئی قرض تھا کئی سال کا کئی رت_جگوں کا ادھار تھا

 

ویڈیو 29

This video is playing from YouTube

ویڈیو کا زمرہ
دیگر
Aisa nahi ke tere baad ahle karam nahi mile

نامعلوم

Aise nahi ke tere baad

Aitbar Sajid 16: Tarjuman Nahi Rahe

نامعلوم

Bhari mehfil mein tanhaai ka aalam dhoond leta hoon

Bhari mehfil mein tanhaaii ka aalam dhoond leta hoon

نامعلوم

Jo khayaal the na qayaas the

نامعلوم

Koi kaisa humsafar hai

نامعلوم

Koi kaisa humsafar hai

Meri raaton ki raahat din ke itmenaan

نامعلوم

Meri raaton ki raahat din ke itmenaan le jana

Phir uske jaate hi dil sunsaan ho kar reh gaya

Tum ko to ye sawan ki ghata kuchh nahi kehti

Tumhain Dekh K Yaad Aata Hai Mujhay..... Kahin Pehlay Bhe Tum Sy Mila Hu Mein

نامعلوم

URDU POETRY - Na Khayal thay Na Qayaas Thay(AITBAR SAJID)

Yun hi si ek baat thi

Yun hi si ek baat thi

نامعلوم

بھیڑ ہے بر_سر_بازار کہیں اور چلیں

نامعلوم

پھول تھے رنگ تھے لمحوں کی صباحت ہم تھے

نامعلوم

تمہیں جب کبھی ملیں فرصتیں مرے دل سے بوجھ اتار دو

طیب نوید

تمہیں خیال_ذات ہے شعور_ذات ہی نہیں

نامعلوم

جانے کس چاہ کے کس پیار کے گن گاتے ہو

نامعلوم

چھوٹے چھوٹے سے مفادات لیے پھرتے ہیں

نامعلوم

چھوٹے چھوٹے کئی بے_فیض مفادات کے ساتھ

نامعلوم

رستے کا انتخاب ضروری سا ہو گیا

گھر کی دہلیز سے بازار میں مت آ جانا

نامعلوم

مجھے وہ کنج_تنہائی سے آخر کب نکالے_گا

نامعلوم

نہ گمان موت کا ہے نہ خیال زندگی کا

نامعلوم

یہ حسیں لوگ ہیں تو ان کی مروت پہ نہ جا

نامعلوم

یہ ٹھیک ہے کہ بہت وحشتیں بھی ٹھیک نہیں

نامعلوم

شعرا متعلقہ

  • پروین شاکر پروین شاکر ہم عصر
  • افتخار عارف افتخار عارف ہم عصر
  • نصیر ترابی نصیر ترابی ہم عصر
  • عدیم ہاشمی عدیم ہاشمی ہم عصر
  • ثروت حسین ثروت حسین ہم عصر
  • اجمل سراج اجمل سراج ہم عصر
  • انور شعور انور شعور ہم عصر
  • فرحت احساس فرحت احساس ہم عصر

شعرا کے مزید "اسلام آباد"

  • صابر وسیم صابر وسیم
  • محمد حنیف رامے محمد حنیف رامے
  • انوار فطرت انوار فطرت
  • عباس رضوی عباس رضوی
  • عباس دانا عباس دانا
  • سرفراز شاہد سرفراز شاہد
  • ادیب سہارنپوری ادیب سہارنپوری
  • حمید نسیم حمید نسیم
  • شبیر شاہد شبیر شاہد
  • اعجاز گل اعجاز گل