noImage

غلام مولیٰ قلق

1833 - 1880

غزل 41

اشعار 49

ہو محبت کی خبر کچھ تو خبر پھر کیوں ہو

یہ بھی اک بے خبری ہے کہ خبر رکھتے ہیں

  • شیئر کیجیے

تو ہے ہرجائی تو اپنا بھی یہی طور سہی

تو نہیں اور سہی اور نہیں اور سہی

  • شیئر کیجیے

کفر اور اسلام میں دیکھا تو نازک فرق تھا

دیر میں جو پاک تھا کعبے میں وہ ناپاک تھا

  • شیئر کیجیے

رباعی 69

ای- کتاب 4

گلستان نازک خیالی

کلیات اردوئے قلق

1883

جواہر منظوم

 

1867

کلیات قلق

 

1966

کلیات اردو قلق

 

1847

 

Added to your favorites

Removed from your favorites