Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Khaliq Abdullah's Photo'

خالق عبداللہ

1947 - 2009 | ہاوڑہ, انڈیا

بنگال سے تعلق رکھنے والے معروف اردو شاعر اور ادیب

بنگال سے تعلق رکھنے والے معروف اردو شاعر اور ادیب

خالق عبداللہ کے اشعار

باعتبار

تیری صورت کو لئے آنکھوں میں اب سو جائیں گے

زندگی کو یوں تڑپتا عمر بھر دیکھے گا کون

چاند نکلا پھر گگن کی اوٹ سے

دل میں سلگا جانے انجانوں کا غم

بند کمرے میں مجھے قید کیا ہے کس نے

میں ہوں اک چیخ فضاؤں میں بکھرنے دو مجھے

شمع تنہا اور پروانوں کا غم

زندگی بھر کتنے افسانوں کا غم

آپ بیکار ہی کرتے ہیں فصیلیں اونچی

ہم تو آواز ہیں چھن جائیں گے دیواروں سے

اندھیرے میں اندھیرا بن کے آیا بھی تو کیا حاصل

کوئی جگنو بنا ہوتا کوئی تارہ بنا ہوتا

دیر تک چمکے گا بھیگی گھاس پر میرا لہو

دیر تک ان جنگلوں میں بھیڑیے غرائیں گے

یہ کالی سڑک یہ سرخ لہو اے چاند تمہیں کچھ بتلاؤ

تم شب بھر جاگتے رہتے ہو یہ راز تمہیں سمجھاؤ گے

جانے کتنی لمبی مسافت طے کرکے وہ آیا تھا

میں نے پیلے چاند کو دیکھا ہانپ رہا تھا پچھلی رات

کہاں ہیں نوجوانان علم بردار کچھ بولو

چلے آؤ کہ ان آنکھوں میں کب سے خواب جلتے ہیں

ڈھلتے ہوئے سورج مجھے ہمراہ لیے چل

اس شہر میں لٹ جانے کے آثار بہت ہیں

لے کے میں تنہا ہی نکلوں گا بغاوت کا علم

مصلحت کی گود میں جب فلسفی سو جائیں گے

کوئی بیٹھا تھا یقیناً یہاں صحرا والا

ریت دریا کی یونہی شعلہ بداماں نہ ہوئی

جلا رہی ہے نشیمن کو برق رہ رہ کر

مرے پرندے تری زندگی کہاں پہنچی

اے دوست کہاں سے آتے ہو کیوں دھول جمی ہے چہرے پر

یہ کوہ ندا کی سرحد ہے اب اور کہاں تک جاؤ گے

پرچم درد اٹھاؤ کوئی فریاد کرو

اتنا چیخو کہ پہاڑوں کا جگر کٹ جائے

جتنے بادل ہیں چلے جاتے ہیں شہروں کی طرف

گاؤں روتے ہیں کہ ان پر اب گہر باری نہیں

صحراؤں میں جانے والے ساتھ سفینے لے جائیں

ایسے بھی کچھ دریا ہیں جو ریت کے نیچے بہتے ہیں

سوچ رہا ہوں سورج کو بھی ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالوں

تاریکی میں سب ہی شاید اپنے جیسے لگتے ہیں

Recitation

بولیے