Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Majaz Aashna's Photo'

مجاز آشنا

1957 | برہان پور, انڈیا

برہان پور سے تعلق رکھنے والے مشہور و معروف شاعر، اپنی غزل گوئی، نظم نگاری اور دیگر متنوع شعری اصناف میں تخلیقی خدمات کے لیے معروف

برہان پور سے تعلق رکھنے والے مشہور و معروف شاعر، اپنی غزل گوئی، نظم نگاری اور دیگر متنوع شعری اصناف میں تخلیقی خدمات کے لیے معروف

مجاز آشنا کے اشعار

باعتبار

نہ کوئی خواب نہ خواہش نہ کوئی ہنگامہ

کئی دنوں سے ہے موسم عجب اداسی کا

آسمانوں کی تمنا میں زمیں کے نہ رہے

خواب وہ دیکھے تھے ہم نے کہ کہیں کے نہ رہے

ابھی تو موت کے خوابوں کے سلسلے ہیں مگر

ہم ایک روز حقیقت میں مارے جائیں گے

ترے بیان کی شوخی سے مجھ کو خدشہ ہے

ترے خیال کی تائید کر نہ جاؤں میں

تسخیر کائنات میں مصروف ہے مگر

انسان کے زوال کا موسم ہے ان دنوں

سب گھومتے ہیں درد کی چادر لپیٹ کر

کیا درد ہے یہ کون سا ماتم ہے ان دنوں

اس بار تو محرومیٔ امید غضب تھی

یہ بھی نہ رہا یاد کہ کس شے کی طلب تھی

پھر گرے ہیں مرے احساس پہ پتھر کے گلاب

پھر مرے ذہن سے رسنے لگا خوشبو کا لہو

باقی نہیں رہی کسی جذبے میں روشنی

رشتوں کا اعتبار خط دود ہو گئی

میں اپنا ذہن اپنی نظر بیچتا رہا

کاغذ کے تاجروں میں ہنر بیچتا رہا

اسی کجروی کی سزا ملی کہ ہماری عظمتیں چھن گئیں

کبھی سچ کو جھوٹ بنا دیا کبھی عیب کو بھی ہنر کیا

اتنا دبا ہوا تھا ضرورت کے بوجھ سے

مٹی کے مول لعل و گوہر بیچتا رہا

زندگی ہو گئی سوکھے ہوئے پتوں کی طرح

اب ہواؤں کی ہے مرضی کہ جدھر لے جائیں

تنہائی کی دیوار سے لگ کر تری آنکھیں

مشکوک نگاہوں سے مجھے گھور رہی ہیں

نشۂ شوق سفر ٹوٹا تو احساس ہوا

جس جگہ کا ہمیں ہونا تھا وہیں کے نہ رہے

Recitation

بولیے