Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Nadim Nadeem's Photo'

نادم ندیم

1994 | کاس گنج, انڈیا

نئی نسل کے نمائندہ شاعروں میں شامل، عام فہم زبان میں روایتی اور نازک احساسات کی شاعری، خاص طور پر عشقیہ مضامین کا بیان

نئی نسل کے نمائندہ شاعروں میں شامل، عام فہم زبان میں روایتی اور نازک احساسات کی شاعری، خاص طور پر عشقیہ مضامین کا بیان

نادم ندیم کے اشعار

812
Favorite

باعتبار

ان سے امید نہ رکھ ہیں یہ سیاست والے

یہ کسی سے بھی محبت نہیں کرنے والے

سوال یہ ہے ہوا آئی کس اشارے پر

چراغ کس کے بجھے یہ سوال تھوڑی ہے

پر کٹے پنچھیوں سے پوچھتے ہو

تم میں اڑنے کا حوصلہ ہے کیا

پھول کتنے اداس لگتے ہیں

اے خدا ان کو تتلیاں دے دے

اس نے دو لفظ میں جو باتیں کہیں تھی مجھ سے

اس کو میں سوچنے بیٹھوں تو زمانے لگ جائیں

ہجر جاناں میں بھی آنسو نہیں آئے میرے

خشک صحراؤں میں برسات کبھی تو ہوگی

میں جس دریا میں کانٹا ڈالتا تھا

سنا ہے اب وہاں مچھلی نہیں ہے

ونواس نہیں ہوتے سبھی چودہ برس کے

کچھ لوگ ہمیشہ کو چلے جاتے ہیں ون میں

آواز لگائی کبھی تلوار گرائی

آگاہ کیا ہم نے اسے وار سے پہلے

اے مرے دوست مرے ساتھ تری یادوں کی

ریت اتنی ہے ہوا جاتا ہے صحرا چہرہ

اک رات کی دیوی کے پرستار ہیں ہم لوگ

دیتی ہے مثالیں جو ترے سانولے پن کی

ہم نے بھگتا ہے پتہ ہے ہمیں کیا ہے دنیا

صرف اک دانۂ گندم کی سزا ہے دنیا

تھا سفر ہم پے مسلط سو ہمیں چلنا تھا

ورنہ یہ دل تو کئی بار ہوا رک جاتے

ایک ہم خود کے ہیں اک گھر کے ہیں اک دنیا کے

تم اگر پا بھی سکو گے تو ہمیں چوتھائی

دوڑتی ہانپتی آئی تھی اداسی مجھ تک

میرے سینے سے لگی اور ذرا سستائی

بدلتے موسموں کا ہاتھ تھامے چلنے والو

سکوں پہنچائے گی تم کو شجرکاری ہماری

وحشت نہیں ہے رقص مسرت ہے دشت میں

پیڑوں کی شکل میں یہ مرے چار سو ہو تم

دیں دار لوگ رب کو منانے میں مست ہیں

درویش اپنے ناچنے گانے میں مست ہیں

میں ہوں وہ ہے صحرا ہے

اور اک پیڑ کا سایا ہے

کیسے کیسے لوگ وجود کی زد میں آ کر مر گئے

اس دریا کی بھینٹ چڑھے کیسے کیسے تیراک

خموشی کھینچ کے لائی مجھے وجود تلک

وجود کھینچ کے لایا ہے مجھ کو لا کی طرف

آہ کو ساز بناتے ہیں دکھوں کی رت میں

دل شکستہ ہیں پر آواز سنبھالے ہوئے ہیں

کیا نیا اور کیسا کھویا چاہنے والو ڈوب مرو

ان آنکھوں کے دریاؤں میں آج بھنور بھرپور پڑے ہیں

پریم نگر میں مانگنے والے بھوکوں مر جاتے ہیں

اس بستی میں کھا نہیں سکتا کوئی چھین جھپٹ کے

بکھیرتا ہے روشنی ردائے آسماں سے وہ

ستارے جیسے اوڑھنی میں پڑ گئے ہوں داغ سے

Recitation

بولیے