Sahar Ansari's Photo'

سحر انصاری

1939 | کراچی, پاکستان

261
Favorite

باعتبار

عجیب ہوتے ہیں آداب رخصت محفل

کہ وہ بھی اٹھ کے گیا جس کا گھر نہ تھا کوئی

یہ مرنا جینا بھی شاید مجبوری کی دو لہریں ہیں

کچھ سوچ کے مرنا چاہا تھا کچھ سوچ کے جینا چاہا ہے

دلوں کا حال تو یہ ہے کہ ربط ہے نہ گریز

محبتیں تو گئیں تھی عداوتیں بھی گئیں

جسے گزار گئے ہم بڑے ہنر کے ساتھ

وہ زندگی تھی ہماری ہنر نہ تھا کوئی

جانے کیوں رنگ بغاوت نہیں چھپنے پاتا

ہم تو خاموش بھی ہیں سر بھی جھکائے ہوئے ہیں

کیسی کیسی محفلیں سونی ہوئیں

پھر بھی دنیا کس قدر آباد ہے

صدا اپنی روش اہل زمانہ یاد رکھتے ہیں

حقیقت بھول جاتے ہیں فسانہ یاد رکھتے ہیں

شکوۂ تلخئ حالات بجا ہے لیکن

اس پہ روتا ہوں کہ میں نے بھی رلایا ہے تجھے

ہم کو جنت کی فضا سے بھی زیادہ ہے عزیز

یہی بے رنگ سی دنیا یہی بے مہر سے لوگ

نہ اب وہ شدت آوارگی نہ وحشت دل

ہمارے نام کی کچھ اور شہرتیں بھی گئیں

تری آرزو سے بھی کیوں نہیں غم زندگی میں کوئی کمی

یہ سوال وہ ہے کہ جس کا اب کوئی اک جواب نہیں رہا

شاید کہ وہ واقف نہیں آداب سفر سے

پانی میں جو قدموں کے نشاں ڈھونڈ رہا تھا

محفل آرائی ہماری نہیں افراط کا نام

کوئی ہو یا کہ نہ ہو آپ تو آئے ہوئے ہیں

موت کے بعد زیست کی بحث میں مبتلا تھے لوگ

ہم تو سحرؔ گزر گئے تہمت زندگی اٹھائے

مرے لہو کو مری خاک ناگزیر کو دیکھ

یونہی سلیقۂ عرض ہنر نہیں آیا

تنگ آتے بھی نہیں کشمکش دہر سے لوگ

کیا تماشا ہے کہ مرتے بھی نہیں زہر سے لوگ