Seemab Akbarabadi's Photo'

سیماب اکبرآبادی

1880 - 1951 | کراچی, پاکستان

ممتاز ترین قبل از جدید شاعروں میں نمایاں، سیکڑوں شاگردوں کے استاد

ممتاز ترین قبل از جدید شاعروں میں نمایاں، سیکڑوں شاگردوں کے استاد

12.2K
Favorite

باعتبار

عمر دراز مانگ کے لائی تھی چار دن

دو آرزو میں کٹ گئے دو انتظار میں

دل کی بساط کیا تھی نگاہ جمال میں

اک آئینہ تھا ٹوٹ گیا دیکھ بھال میں

روز کہتا ہوں کہ اب ان کو نہ دیکھوں گا کبھی

روز اس کوچے میں اک کام نکل آتا ہے

مری خاموشیوں پر دنیا مجھ کو طعن دیتی ہے

یہ کیا جانے کہ چپ رہ کر بھی کی جاتی ہیں تقریریں

تجھے دانستہ محفل میں جو دیکھا ہو تو مجرم ہوں

نظر آخر نظر ہے بے ارادہ اٹھ گئی ہوگی

پریشاں ہونے والوں کو سکوں کچھ مل بھی جاتا ہے

پریشاں کرنے والوں کی پریشانی نہیں جاتی

ماضیٔ مرحوم کی ناکامیوں کا ذکر چھوڑ

زندگی کی فرصت باقی سے کوئی کام لے

وہ دنیا تھی جہاں تم بند کرتے تھے زباں میری

یہ محشر ہے یہاں سننی پڑے گی داستاں میری

ہائے سیمابؔ اس کی مجبوری

جس نے کی ہو شباب میں توبہ

تیرے جلووں نے مجھے گھیر لیا ہے اے دوست

اب تو تنہائی کے لمحے بھی حسیں لگتے ہیں

دل آفت زدہ کا مدعا کیا

شکستہ ساز کیا اس کی صدا کیا

ہے حصول آرزو کا راز ترک آرزو

میں نے دنیا چھوڑ دی تو مل گئی دنیا مجھے

دنیا ہے خواب حاصل دنیا خیال ہے

انسان خواب دیکھ رہا ہے خیال میں

منزل ملی مراد ملی مدعا ملا

سب کچھ مجھے ملا جو ترا نقش پا ملا

destination and desire and my ends attained

i got everything when your footprints I obtained

کیا ڈھونڈھنے جاؤں میں کسی کو

اپنا مجھے خود پتا نہیں ہے

حسن میں جب ناز شامل ہو گیا

ایک پیدا اور قاتل ہو گیا

دیکھتے ہی دیکھتے دنیا سے میں اٹھ جاؤں گا

دیکھتی کی دیکھتی رہ جائے گی دنیا مجھے

خلوص دل سے سجدہ ہو تو اس سجدے کا کیا کہنا

وہیں کعبہ سرک آیا جبیں ہم نے جہاں رکھ دی

مری دیوانگی پر ہوش والے بحث فرمائیں

مگر پہلے انہیں دیوانہ بننے کی ضرورت ہے

غم مجھے حسرت مجھے وحشت مجھے سودا مجھے

ایک دل دے کر خدا نے دے دیا کیا کیا مجھے

کہانی میری روداد جہاں معلوم ہوتی ہے

جو سنتا ہے اسی کی داستاں معلوم ہوتی ہے

خدا اور ناخدا مل کر ڈبو دیں یہ تو ممکن ہے

میری وجہ تباہی صرف طوفاں ہو نہیں سکتا

محبت میں اک ایسا وقت بھی آتا ہے انساں پر

ستاروں کی چمک سے چوٹ لگتی ہے رگ جاں پر

رنگ بھرتے ہیں وفا کا جو تصور میں ترے

تجھ سے اچھی تری تصویر بنا لیتے ہیں

جب دل پہ چھا رہی ہوں گھٹائیں ملال کی

اس وقت اپنے دل کی طرف مسکرا کے دیکھ

وہ آئینہ ہو یا ہو پھول تارہ ہو کہ پیمانہ

کہیں جو کچھ بھی ٹوٹا میں یہی سمجھا مرا دل ہے

مرکز پہ اپنے دھوپ سمٹتی ہے جس طرح

یوں رفتہ رفتہ تیرے قریب آ رہا ہوں میں

کہانی ہے تو اتنی ہے فریب خواب ہستی کی

کہ آنکھیں بند ہوں اور آدمی افسانہ ہو جائے

گناہوں پر وہی انسان کو مجبور کرتی ہے

جو اک بے نام سی فانی سی لذت ہے گناہوں میں

میں دیکھتا ہوں آپ کو حد نگاہ تک

لیکن مری نگاہ کا کیا اعتبار ہے

تعجب کیا لگی جو آگ اے سیمابؔ سینے میں

ہزاروں دل میں انگارے بھرے تھے لگ گئی ہوگی

چمک جگنو کی برق بے اماں معلوم ہوتی ہے

قفس میں رہ کے قدر آشیاں معلوم ہوتی ہے

the glow of fireflies appears as lightning heaven sent

the value of freedom is felt, during imprisonment

لہو سے میں نے لکھا تھا جو کچھ دیوار زنداں پر

وہ بجلی بن کے چمکا دامن صبح گلستاں پر

بت کریں آرزو خدائی کی

شان تیری ہے کبریائی کی

صحرا سے بار بار وطن کون جائے گا

کیوں اے جنوں یہیں نہ اٹھا لاؤں گھر کو میں

یہ شراب عشق اے سیمابؔ ہے پینے کی چیز

تند بھی ہے بد مزہ بھی ہے مگر اکسیر ہے

کیوں جام شراب ناب مانگوں

ساقی کی نظر میں کیا نہیں ہے

دیکھتے رہتے ہیں چھپ چھپ کے مرقع تیرا

کبھی آتی ہے ہوا بھی تو چھپا لیتے ہیں

سیمابؔ دل حوادث دنیا سے بجھ گیا

اب آرزو بھی ترک تمنا سے کم نہیں

برہمن کہتا تھا برہم شیخ بول اٹھا احد

حرف کے اک پھیر سے دونوں میں جھگڑا ہو گیا

نشاط حسن ہو جوش وفا ہو یا غم عشق

ہمارے دل میں جو آئے وہ آرزو ہو جائے

سارے چمن کو میں تو سمجھتا ہوں اپنا گھر

جیسے چمن میں میرا کوئی آشیاں بنا

قفس کی تیلیوں میں جانے کیا ترکیب رکھی ہے

کہ ہر بجلی قریب آشیاں معلوم ہوتی ہے

یہ میری تیرہ نصیبی یہ سادگی یہ فریب

گری جو برق میں سمجھا چراغ خانہ ملا

ہو گئے رخصت رئیسؔ و عالؔی و واصفؔ نثارؔ

رفتہ رفتہ آگرہ سیمابؔ سونا ہو گیا

اب وہاں دامن کشی کی فکر دامن گیر ہے

یہ مرے خواب محبت کی نئی تعبیر ہے