Syed Aabid Ali Aabid's Photo'

سید عابد علی عابد

1906 - 1971 | لاہور, پاکستان

ممتازترین پاکستانی نقادوں میں شامل

ممتازترین پاکستانی نقادوں میں شامل

183
Favorite

باعتبار

دم رخصت وہ چپ رہے عابدؔ

آنکھ میں پھیلتا گیا کاجل

یا کبھی عاشقی کا کھیل نہ کھیل

یا اگر مات ہو تو ہاتھ نہ مل

کہتے تھے تجھی کو جان اپنی

اور تیرے بغیر بھی جئے ہیں

انہیں کو عرض وفا کا تھا اشتیاق بہت

انہیں کو عرض وفا نا گوار گزری ہے

میرا جینا ہے سیج کانٹوں کی

ان کے مرنے کا نام تاج محل

جلوۂ یار سے کیا شکوۂ بے جا کیجے

شوق دیدار کا عالم وہ کہاں ہے کہ جو تھا

آج آیا ہے اپنا دھیان ہمیں

آج دل کے نگر سے گزرے ہیں

وہ مجھے مشورۂ ترک وفا دیتے تھے

یہ محبت کی ادا ہے مجھے معلوم نہ تھا

کچھ احترام بھی کر غم کی وضع داری کا

گراں ہے عرض تمنا تو بار بار نہ کر

اک دن اس نے نین ملا کے شرما کے مکھ موڑا تھا

تب سے سندر سندر سپنے من کو گھیرے پھرتے ہیں

اے التفات یار مجھے سوچنے تو دے

مرنے کا ہے مقام یا جینے کا محل

میرے جینے کا یہ اسلوب پتہ دیتا ہے

کہ ابھی عشق میں کچھ کام ہیں کرنے والے

واعظو میں بھی تمہاری ہی طرح مسجد میں

بیچ دوں دولت ایماں تو مزا آ جائے

شب ہجراں کی درازی سے پریشان نہ تھا

یہ تیری زلف رسا ہے مجھے معلوم نہ تھا

در اخلاص کی دہلیز پر خم ہوں عابدؔ

ایک جینے کا سلیقہ دل بیباک میں ہے

تیرے خوش پوش فقیروں سے وہ ملتے تو سہی

جو یہ کہتے ہیں وفا پیرہن چاک میں ہے

کوئی برسا نہ سر کشت وفا

کتنے بادل گہر افشاں گزرے

یہ کیا طلسم ہے دنیا پہ بار گزری ہے

وہ زندگی جو سر رہ گزار گزری ہے

غم کے تاریک افق پر عابدؔ

کچھ ستارے سر مژگاں گزرے

سبو اٹھا کہ یہ نازک مقام ہے ساقی

نہ اہرمن ہے نہ یزداں ہے دیکھیے کیا ہو

یہ حادثہ بھی ہوا ہے کہ عشق یار کی یاد

دیار قلب سے بیگانہ وار گزری ہے

مجھے دھوکا ہوا کہ جادو ہے

پاؤں بجتے ہیں تیرے بن چھاگل

کبھی میں جرأت اظہار مدعا تو کروں

کوئی جواز تو ہو لطف بے سبب کے لئے

ساقیا ہے تری محفل میں خداؤں کا ہجوم

محفل افروز ہو انساں تو مزا آ جائے

یہی دل جس کو شکایت ہے گراں جانی کی

یہی دل کار گہ شیشہ گراں ہوتا ہے

عشق کی طرز تکلم وہی چپ ہے کہ جو تھی

لب خوش گوئے ہوس محو بیاں ہے کہ جو تھا

شرع و آئین کی تعزیر کے با وصف شباب

لب و رخسار کی جانب نگراں ہے کہ جو تھا

غم دوراں غم جاناں کا نشاں ہے کہ جو تھا

وصف خوباں بہ حدیث دگراں ہے کہ جو تھا