aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "rii"
پریم چند
1880 - 1936
مصنف
عزیز نبیل
born.1976
شاعر
نقش لائل پوری
1928 - 2017
اننیا راۓ پراشر
born.1998
منشی نوبت رائے نظر لکھنوی
1864 - 1923
مہتاب رائے تاباں
گیتانجلی رائے
born.1990
رہتو سنگھ راجپوت ریت
born.1997
راز لائلپوری
born.1920
جی آر وشیشٹھ
born.1996
آر پی شوخ
جی آر کنول
born.1935
سنتوکھ رائے بیتاب
پروین رائے
born.1995
آنند رام مخلص
1699 - 1751
بدہ یارا ازاں بادہ کہ دہقاں پرورد آں رابہ سوزد ہر متاع انتماے دودماناں را
اللہ ری جسم یار کی خوبی کہ خودبخودرنگینیوں میں ڈوب گیا پیرہن تمام
رفتہ رفتہ غیر اپنی ہی نظر میں ہو گئےواہ ری غفلت تجھے اپنا سمجھ بیٹھے تھے ہم
ہائے ری مجبوریاں ترک محبت کے لیےمجھ کو سمجھاتے ہیں وہ اور ان کو سمجھاتا ہوں میں
مایوسی زندگی میں ایک منفی قدر کے طور پر دیکھی جاتی ہے لیکن زندگی کی سفاکیاں مایوسی کے احساس سے نکلنے ہی نہیں دیتیں ۔ اس سب کے باوجود زندگی مسلسل مایوسی سے پیکار کئے جانے کا نام ہی ہے ۔ ہم مایوس ہوتے ہیں لیکن پھر ایک نئے حوصلے کے ساتھ ایک نئے سفر پر گامزن ہوجاتے ہیں ۔ مایوسی کی مختلف صورتوں اور جہتوں کو موضوع بنانے والا ہمارا یہ انتخاب زندگی کو خوشگوار بنانے کی ایک صورت ہے ۔
گاؤں ہر اس شخص کے ناسٹلجیا میں بہت مضبوطی کے ساتھ قدم جمائے ہوتا ہے جو شہر کی زندگی کا حصہ بن گیا ہو ۔ گاؤں کی زندگی کی معصومیت ، اس کی اپنائیت اور سادگی زندگی بھر اپنی طرف کھینچتی ہے ۔ ان کیفیتوں سے ہم میں سے بیشتر گزرے ہوں گے اور اپنے داخل میں اپنے اپنے گاؤں کو جیتے ہوں گے ۔ یہ انتخاب پڑھئے اور گاؤں کی بھولی بسری یادوں کو تازہ کیجئے ۔
رفتگاں کی یاد سے کسے چھٹکارا مل سکتا ہے ۔ گزرے ہوئے لوگوں کی یادیں برابر پلٹتی رہتی ہیں اور انسان بے چینی کے شدید لمحات سے گزرتا ہے ۔ تخلیقی ذہن کی حساسیت نے اس موضوع کو اور بھی زیادہ دلچسپ بنا دیا ہے اور ایسے ایسے باریک احساسات لفظوں میں قید ہوگئے ہیں جن سے ہم سب گزرتے تو ہیں لیکن ان پر رک کر سوچ نہیں سکتے ۔ ہمارا یہ انتخاب پڑھئے اور اپنے اپنے رفتگاں کی نئے سرے سے بازیافت کیجئے ۔
रीرِی
علامت اسمی : جیسے بِکتا سے بکری.
री'رِیع
عربی
شرح ، شرح محصول ، مقررہ شرح جس کے حِساب سے کسی گان٘و وغیرہ کے زمینوں پر محصول لِیا جائے نِرخ ، نِرخ عام.
रि'ईرِعی
گھاس، گیاہ
हीہی
سنسکرت
(قواعد) ’’ہی ‘‘ جب اسماء و ضمائر وغیرہ سے مل کر آئے تو جملے میں فاعلی ، مفعولی ، اضافی ، مجروری علامتیں عموماً ’’ہی‘‘ کے بعد آتی ہیں
بوجھ سکھی ری بوجھ
فراغ روہوی
کہہ مکرنی
سفر نامہ جزیرہ فرانس ری یونین
مولانا جاوید احمد ملی
سفر نامہ
سسُ ري سسُ
ناچ ری گڑیا
ظفر گورکھپوری
آر۔ پروگرامنگ ایک تعارف
ثنا رشید
سائنس
اصول علم سیاست
آر۔ این۔ گلکرسٹ
سیاسی
حضرت عبد الرحمٰن بن عوف
مولوی فضل اللہ
تذکرہ
پریم چند: قلم کا سپاہی
امرت راے
سوانح حیات
پیت کی ریت
نواب صادق جنگ حلم
راجہ رام موہن رائے
سمیندر ناتھ ٹیگور
مونوگراف
شعور کی رو اور قرۃ العین حیدر
ہارون ایوب
فکشن تنقید
آریہ سماج کی تاریخ
لالہ لاجپت رائے
غلامی کی علامتیں اور غلامی کے نتائج
مضامین
حفظ صحت
ڈی آر بھاٹیہ،آر.پرشاد
صحت عامہ
شمع رو آپ گو ہوئے لیکنلطف سوز و گداز کیا جانیں
ہجر کی آگ میں اے ری ہواؤ دو جلتے گھر اگر کہیںتنہا تنہا جلتے ہوں تو آگ میں آگ ملا دینا
جب نگاہیں اٹھ گئیں اللہ ری معراج شوقدیکھتا کیا ہوں وہ جان انتظار آ ہی گیا
ہائے ری بے اختیاری یہ تو سب کچھ ہو مگراس سراپا ناز سے کیونکر خفا ہو جائیے
غش کھا کے گرے موسیٰ اللہ ری مایوسیہلکا سا وہ پردہ بھی دیوار نظر آیا
اللہ رے سوز آتش غم بعد مرگ بھیاٹھتے ہیں میری خاک سے شعلے ہوا کے ساتھ
ہائے ری چھیڑ رات سن سن کےحال میرا کہا کہ کیا صاحب
اللہ ری کامیابی آوارگان عشقخود گم ہوئے تو کیا اسے پائے ہوئے تو ہیں
ارمان نہیں کوئی گو دل میں مرے لیکناللہ ری مجبوری مجبور تمنا ہوں
اللہ ری دل فریبی جلووں کے بانکپن کیمحفل میں وہ جو آئے کج ہو گئیں کلاہیں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books