تمام
تعارف
غزل183
شعر172
ای-کتاب38
ٹاپ ٢٠ شاعری 21
تصویری شاعری 27
آڈیو 18
ویڈیو 50
قصہ5
گیلری 1
بلاگ1
بشیر بدر
غزل 183
اشعار 172
اجالے اپنی یادوں کے ہمارے ساتھ رہنے دو
نہ جانے کس گلی میں زندگی کی شام ہو جائے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
کچھ تو مجبوریاں رہی ہوں گی
یوں کوئی بے وفا نہیں ہوتا
Rekhta
AI Explanation
اس شعر میں شاعر بے وفائی کے زخم کو بھی ایک نرم تاویل دے کر سہنے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ ضرور کچھ مجبوریاں رہی ہوں گی، ورنہ کوئی شخص یوں بلا وجہ بے وفا نہیں ہوتا۔ یہ اندازِ بیان محبوب پر سیدھا الزام رکھنے کے بجائے حالات کو شریکِ جرم ٹھہراتا ہے — یوں محبت بھی بچ جاتی ہے اور دل کا دکھ بھی کسی حد تک قابلِ برداشت ہو جاتا ہے۔
نہ جی بھر کے دیکھا نہ کچھ بات کی
بڑی آرزو تھی ملاقات کی
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
ہم بھی دریا ہیں ہمیں اپنا ہنر معلوم ہے
جس طرف بھی چل پڑیں گے راستہ ہو جائے گا
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے