Author : Zaheeruddin Babar

Publisher : Maktaba Al-Hasanat, Delhi

Year of Publication : 2002

Language : Urdu

Categories : Translation

Sub Categories : Autobiography

Pages : 288

ISBN No./ISSN NO : 81-86632-71-9

Translator : Rasheed Akhtar Nadvi

Contributor : Ghalib Institute, New Delhi

tuzk-e-babri

About The Book

تزک بابری یا بابر نامہ ، بابر کی خود نوشت اور شاہکار تصنیف ہے ۔ بابر جس قدر جری اور عزم و استقلال کا پکا تھا اتنا ہی زیادہ اس کو علم و ادب سے شغف تھا ۔ اس نے فقہ حنفی اور عروض پر کتاب بھی لکھی ہے ۔ بابر ہمیشہ علمی مباحث میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتا ۔ اس کے ہمنوا ؤں اور دوستوں میں علی شیر نوائی ازبیکی ترکی زبان اور فارسی کا معروف شاعر تھا۔. بابر نے اپنی سرگزشت ترکی زبان میں لکھی ہے ۔ اس کی سرگزشت میں اس نے اپنی غلطیوں اور شکستوں کو بغیر کم و کاست تحریر کر دیا ہے ۔ اس نے اپنی سرگزشت جوانی میں لکھنا شروع کی اور اپنے آخری سال تک اس کام کو جاری رکھا ۔ یہ کتاب اس نے اپنی تعریف کرنے کے لئے نہیں لکھی تھی جیسا کہ بعض سرگزشتوں کو دیکھنے سے لگتا ہے بلکہ اس کی سرگزشت بعض مقامات پر تو اتنی صاف اور بے نیام ہو جاتی ہے کہ تعفن زدہ معلوم پڑنے لگتی ۔ اس نے اپنی اس کتاب میں حقیقت نگاری سے کام لیا ہے اور کہیں بھی اپنے یا پرائے چہرے کو خود سے تبدیل کرنے کی کوشش نہیں کی ۔ اس کتاب سے بابر کی استعداد کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہ کس عالی ذوق کا مالک تھا ۔ اس نے اس کتاب میں خاص طور پر ہندوستان کے احوال کو بہت ہی دلچسپی سے لکھا ہے اس نے یہاں کی کھاس سے لیکر عورتوں تک کی تعریف کی ہے اور کہتا ہے کہ یہاں بہار کا موسم شاید بارش کے موسم میں آتا ہے ۔ اس ترکی تصنیف کو سب سے پہلے عبد الرحیم خان خاناں نے فارسی زبان میں ترجمہ کیا۔ زیر نظر ترجمہ اردو زبان میں ہے جسے رشید اختر ندوی نے بہت ہی زیادہ محنت کرکے ترجمہ کیا ہے ۔ اس کتاب کے تراجم دنیا کی کئی بڑی بڑی زبانوں میں ہو چکے ہیں ۔

.....Read more

More From Author

Read the author's other books here.

See More

What Others Read

Curious what other readers are upto? Check this list of favorite Urdu books of Rekhta readers.

See More

Popular And Trending Read

Find out most popular and trending Urdu books right here.

See More

Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

GET YOUR FREE PASS
Speak Now