754
Favorite

باعتبار

چراغ چاند شفق شام پھول جھیل صبا

چرائیں سب نے ہی کچھ کچھ شباہتیں تیری

چراغ چاند شفق شام پھول جھیل صبا

چرائیں سب نے ہی کچھ کچھ شباہتیں تیری

سفر میں ہر قدم رہ رہ کے یہ تکلیف ہی دیتے

بہر صورت ہمیں ان آبلوں کو پھوڑ دینا تھا

سفر میں ہر قدم رہ رہ کے یہ تکلیف ہی دیتے

بہر صورت ہمیں ان آبلوں کو پھوڑ دینا تھا

کوئی پرانا خط کچھ بھولی بسری یاد

زخموں پر وہ لمحے مرہم ہوتے ہیں

کوئی پرانا خط کچھ بھولی بسری یاد

زخموں پر وہ لمحے مرہم ہوتے ہیں

تیشہ بکف کو آئینہ گر کہہ دیا گیا

جو عیب تھا اسے بھی ہنر کہہ دیا گیا

تیشہ بکف کو آئینہ گر کہہ دیا گیا

جو عیب تھا اسے بھی ہنر کہہ دیا گیا

اس نے دیکھا ہے سر بزم ستم گر کی طرح

پھول پھینکا بھی مری سمت تو پتھر کی طرح

اس نے دیکھا ہے سر بزم ستم گر کی طرح

پھول پھینکا بھی مری سمت تو پتھر کی طرح

لہجے کا رس ہنسی کی دھنک چھوڑ کر گیا

وہ جاتے جاتے دل میں کسک چھوڑ کر گیا

لہجے کا رس ہنسی کی دھنک چھوڑ کر گیا

وہ جاتے جاتے دل میں کسک چھوڑ کر گیا

سر راہ مل کے بچھڑ گئے تھا بس ایک پل کا وہ حادثہ

مرے صحن دل میں مقیم ہے وہی ایک لمحہ عذاب کا

سر راہ مل کے بچھڑ گئے تھا بس ایک پل کا وہ حادثہ

مرے صحن دل میں مقیم ہے وہی ایک لمحہ عذاب کا

آبادیوں میں کیسے درندے گھس آئے ہیں

مقتل گلی گلی ہے ہر اک گھر لہو لہو

آبادیوں میں کیسے درندے گھس آئے ہیں

مقتل گلی گلی ہے ہر اک گھر لہو لہو

ہم فنا نصیبوں کو اور کچھ نہیں آتا

خوں شراب کر لینا جسم جام کر لینا

ہم فنا نصیبوں کو اور کچھ نہیں آتا

خوں شراب کر لینا جسم جام کر لینا

ادا ہوا نہ کبھی مجھ سے ایک سجدۂ شکر

میں کس زباں سے کروں گا شکایتیں تیری

ادا ہوا نہ کبھی مجھ سے ایک سجدۂ شکر

میں کس زباں سے کروں گا شکایتیں تیری

مری نظر میں آ گیا ہے جب سے اک صحیفہ رخ

کشش رہی نہ دل میں اب کسی کتاب کے لیے

مری نظر میں آ گیا ہے جب سے اک صحیفہ رخ

کشش رہی نہ دل میں اب کسی کتاب کے لیے

لمحہ لمحہ میں ہوا جاتا ہوں ریزہ ریزہ

وجہ کچھ مجھ سے نہ پوچھو مرے رب سے پوچھو

لمحہ لمحہ میں ہوا جاتا ہوں ریزہ ریزہ

وجہ کچھ مجھ سے نہ پوچھو مرے رب سے پوچھو

یک بیک جاں سے گزرنا تو ہے آساں انجمؔ

قطرہ قطرہ کئی قسطوں میں پگھل کر دیکھیں

یک بیک جاں سے گزرنا تو ہے آساں انجمؔ

قطرہ قطرہ کئی قسطوں میں پگھل کر دیکھیں

ادھر سچ بولنے گھر سے کوئی دیوانہ نکلے گا

ادھر مقتل میں استقبال کی تیاریاں ہوں گی

ادھر سچ بولنے گھر سے کوئی دیوانہ نکلے گا

ادھر مقتل میں استقبال کی تیاریاں ہوں گی

آیا تھا پچھلی رات دبے پاؤں میرے گھر

پازیب کی رگوں میں جھنک چھوڑ کر گیا

آیا تھا پچھلی رات دبے پاؤں میرے گھر

پازیب کی رگوں میں جھنک چھوڑ کر گیا

لوٹ کر یقیناً میں ایک روز آؤں گا

پلکوں پہ چراغوں کا اہتمام کر لینا

لوٹ کر یقیناً میں ایک روز آؤں گا

پلکوں پہ چراغوں کا اہتمام کر لینا

مٹھی سے پھسلے ہی جاتے ہیں ہر پھل

وصل کے لمحے تار ریشم ہوتے ہیں

مٹھی سے پھسلے ہی جاتے ہیں ہر پھل

وصل کے لمحے تار ریشم ہوتے ہیں

کیا عجب ہے کہ یہ مٹھی میں ہماری آ جائے

آسماں کی طرف اک بار اچھل کر دیکھیں

کیا عجب ہے کہ یہ مٹھی میں ہماری آ جائے

آسماں کی طرف اک بار اچھل کر دیکھیں

یاد ہے قصۂ غم کا مجھے ہر لفظ ابھی

حال جس درد کا جس رنج کا جب سے پوچھو

یاد ہے قصۂ غم کا مجھے ہر لفظ ابھی

حال جس درد کا جس رنج کا جب سے پوچھو

بات کچھ ہوگی یقیناً جو یہ ہوتے ہیں نثار

ہم بھی اک روز کسی شمع پہ جل کر دیکھیں

بات کچھ ہوگی یقیناً جو یہ ہوتے ہیں نثار

ہم بھی اک روز کسی شمع پہ جل کر دیکھیں

ہر چہرہ ہر رنگ میں آنے لگتا ہے

پیش نظر یادوں کے البم ہوتے ہیں

ہر چہرہ ہر رنگ میں آنے لگتا ہے

پیش نظر یادوں کے البم ہوتے ہیں

پلکوں پہ جگنوؤں کا بسیرا ہے وقت شام

انجمؔ میں پانیوں میں چمک چھوڑ کر گیا

پلکوں پہ جگنوؤں کا بسیرا ہے وقت شام

انجمؔ میں پانیوں میں چمک چھوڑ کر گیا

درد دل بانٹتا آیا ہے زمانے کو جو اب تک انجمؔ

کچھ ہوا یوں کہ وہی درد سے دو چار ہوا چاہتا ہے

درد دل بانٹتا آیا ہے زمانے کو جو اب تک انجمؔ

کچھ ہوا یوں کہ وہی درد سے دو چار ہوا چاہتا ہے