153
Favorite

باعتبار

ہر ملاقات کا انجام جدائی تھا اگر

پھر یہ ہنگامہ ملاقات سے پہلے کیا تھا

میں عمر کو تو مجھے عمر کھینچتی ہے الٹ

تضاد سمت کا ہے اسپ اور سوار کے بیچ

نتیجہ ایک سا نکلا دماغ اور دل کا

کہ دونوں ہار گئے امتحاں میں دنیا کے

کوئی سبب تو ہے ایسا کہ ایک عمر سے ہیں

زمانہ مجھ سے خفا اور میں زمانے سے

دھوپ جوانی کا یارانہ اپنی جگہ

تھک جاتا ہے جسم تو سایہ مانگتا ہے

ہو نہیں پایا ہے سمجھوتہ کبھی دونوں کے بیچ

جھوٹ اندر سے ہے سچ باہر سے اکتایا ہوا

عجیب شخص تھا میں بھی بھلا نہیں پایا

کیا نہ اس نے بھی انکار یاد آنے سے

قسمت کی خرابی ہے کہ جاتا ہوں غلط سمت

پڑتا ہے بیابان بیابان سے آگے

در کھول کے دیکھوں ذرا ادراک سے باہر

یہ شور سا کیسا ہے مری خاک سے باہر

جو قصہ گو نے سنایا وہی سنا گیا ہے

اگر تھا اس سے سوا تو نہیں کہا گیا ہے

حیرت ہے سب تلاش پہ اس کی رہے مصر

پایا گیا سراغ نہ جس بے سراغ کا

سست رو مسافر کی قسمتوں پہ کیا رونا

تیز چلنے والا بھی دشت بے اماں میں ہے

ہوتا ہے پھر وہ اور کسی یاد کے سپرد

رکھتا ہوں جو سنبھال کے لمحہ فراغ کا

چاہا تھا مفر دل نے مگر زلف گرہ گیر

پیچاک بناتی رہی پیچاک سے باہر

دنوں مہینوں آنکھیں روئیں نئی رتوں کی خواہش میں

رت بدلی تو سوکھے پتے دہلیزوں میں در آئے

مشق سخن میں دل بھی ہمیشہ سے ہے شریک

لیکن ہے اس میں کام زیادہ دماغ کا

بے سبب جمع تو کرتا نہیں تیر و ترکش

کچھ ہدف ہوگا زمانے کی ستم گاری کا

اٹھا رکھی ہے کسی نے کمان سورج کی

گرا رہا ہے مرے رات دن نشانے سے

بجھی نہیں مرے آتش کدے کی آگ ابھی

اٹھا نہیں ہے بدن سے دھواں کہاں گیا میں

ہوا کے کھیل میں شرکت کے واسطے مجھ کو

خزاں نے شاخ سے پھینکا ہے رہ گزار کے بیچ

اطوار اس کے دیکھ کے آتا نہیں یقیں

انساں سنا گیا ہے کہ آفاق میں رہا

پایا نہ کچھ خلا کے سوا عکس حیرتی

گزرا تھا آر پار ہزار آئنے کے ساتھ

کبھی قطار سے باہر کبھی قطار کے بیچ

میں ہجر زاد ہوا خرچ انتظار کے بیچ

نہیں کھلتا کہ آخر یہ طلسماتی تماشا سا

زمیں کے اس طرف اور آسماں کے اس طرف کیا ہے

کچھ دیر ٹھہر اور ذرا دیکھ تماشا

ناپید ہیں یہ رونقیں اس خاک سے باہر