ہر ملاقات کا انجام جدائی تھا اگر

پھر یہ ہنگامہ ملاقات سے پہلے کیا تھا

میں عمر کو تو مجھے عمر کھینچتی ہے الٹ

تضاد سمت کا ہے اسپ اور سوار کے بیچ

دھوپ جوانی کا یارانہ اپنی جگہ

تھک جاتا ہے جسم تو سایہ مانگتا ہے

کوئی سبب تو ہے ایسا کہ ایک عمر سے ہیں

زمانہ مجھ سے خفا اور میں زمانے سے

ہو نہیں پایا ہے سمجھوتہ کبھی دونوں کے بیچ

جھوٹ اندر سے ہے سچ باہر سے اکتایا ہوا

نتیجہ ایک سا نکلا دماغ اور دل کا

کہ دونوں ہار گئے امتحاں میں دنیا کے

عجیب شخص تھا میں بھی بھلا نہیں پایا

کیا نہ اس نے بھی انکار یاد آنے سے

در کھول کے دیکھوں ذرا ادراک سے باہر

یہ شور سا کیسا ہے مری خاک سے باہر

ہوتا ہے پھر وہ اور کسی یاد کے سپرد

رکھتا ہوں جو سنبھال کے لمحہ فراغ کا

حیرت ہے سب تلاش پہ اس کی رہے مصر

پایا گیا سراغ نہ جس بے سراغ کا

جو قصہ گو نے سنایا وہی سنا گیا ہے

اگر تھا اس سے سوا تو نہیں کہا گیا ہے

قسمت کی خرابی ہے کہ جاتا ہوں غلط سمت

پڑتا ہے بیابان بیابان سے آگے

دنوں مہینوں آنکھیں روئیں نئی رتوں کی خواہش میں

رت بدلی تو سوکھے پتے دہلیزوں میں در آئے

مشق سخن میں دل بھی ہمیشہ سے ہے شریک

لیکن ہے اس میں کام زیادہ دماغ کا

بے سبب جمع تو کرتا نہیں تیر و ترکش

کچھ ہدف ہوگا زمانے کی ستم گاری کا

چاہا تھا مفر دل نے مگر زلف گرہ گیر

پیچاک بناتی رہی پیچاک سے باہر

اطوار اس کے دیکھ کے آتا نہیں یقیں

انساں سنا گیا ہے کہ آفاق میں رہا

سست رو مسافر کی قسمتوں پہ کیا رونا

تیز چلنے والا بھی دشت بے اماں میں ہے

ہوا کے کھیل میں شرکت کے واسطے مجھ کو

خزاں نے شاخ سے پھینکا ہے رہ گزار کے بیچ

کبھی قطار سے باہر کبھی قطار کے بیچ

میں ہجر زاد ہوا خرچ انتظار کے بیچ

بجھی نہیں مرے آتش کدے کی آگ ابھی

اٹھا نہیں ہے بدن سے دھواں کہاں گیا میں

پایا نہ کچھ خلا کے سوا عکس حیرتی

گزرا تھا آر پار ہزار آئنے کے ساتھ

نہیں کھلتا کہ آخر یہ طلسماتی تماشا سا

زمیں کے اس طرف اور آسماں کے اس طرف کیا ہے

کچھ دیر ٹھہر اور ذرا دیکھ تماشا

ناپید ہیں یہ رونقیں اس خاک سے باہر

اٹھا رکھی ہے کسی نے کمان سورج کی

گرا رہا ہے مرے رات دن نشانے سے