Farigh Bukhari's Photo'

فارغ بخاری

1917 - 1997 | پاکستان

415
Favorite

باعتبار

سفر میں کوئی کسی کے لیے ٹھہرتا نہیں

نہ مڑ کے دیکھا کبھی ساحلوں کو دریا نے

یہی ہے دور غم عاشقی تو کیا ہوگا

اسی طرح سے کٹی زندگی تو کیا ہوگا

کتنے شکوے گلے ہیں پہلے ہی

راہ میں فاصلے ہیں پہلے ہی

دو دریا بھی جب آپس میں ملتے ہیں

دونوں اپنی اپنی پیاس بجھاتے ہیں

ہم ایک فکر کے پیکر ہیں اک خیال کے پھول

ترا وجود نہیں ہے تو میرا سایا نہیں

پکارا جب مجھے تنہائی نے تو یاد آیا

کہ اپنے ساتھ بہت مختصر رہا ہوں میں

تمہارے ساتھ ہی اس کو بھی ڈوب جانا ہے

یہ جانتا ہے مسافر ترے سفینے کا

ہزار ترک وفا کا خیال ہو لیکن

جو روبرو ہوں تو بڑھ کر گلے لگا لینا

دیواریں کھڑی ہوئی ہیں لیکن

اندر سے مکان گر رہا ہے

یاد آئیں گے زمانے کو مثالوں کے لیے

جیسے بوسیدہ کتابیں ہوں حوالوں کے لیے

کیا زمانہ ہے یہ کیا لوگ ہیں کیا دنیا ہے

جیسا چاہے کوئی ویسا نہیں رہنے دیتے

جلتے موسم میں کوئی فارغ نظر آتا نہیں

ڈوبتا جاتا ہے ہر اک پیڑ اپنی چھاؤں میں

منصور سے کم نہیں ہے وہ بھی

جو اپنی زباں سے بولتا ہے

جتنے تھے تیرے مہکے ہوئے آنچلوں کے رنگ

سب تتلیوں نے اور دھنک نے اڑا لیے

نئی منزل کا جنوں تہمت گمراہی ہے

پا شکستہ بھی تری راہ میں کہلایا ہوں

محبتوں کی شکستوں کا اک خرابہ ہوں

خدارا مجھ کو گراؤ کہ میں دوبارا بنوں

زندگی میں ایسی کچھ طغیانیاں آتی رہیں

بہہ گئیں ہیں عمر بھر کی نیکیاں دریاؤں میں

ہم سے انساں کی خجالت نہیں دیکھی جاتی

کم سوادوں کا بھرم ہم نے روا رکھا ہے