noImage

ہجر ناظم علی خان

1880 - 1914 | رام پور, ہندوستان

داغ دہلوی کے شاگرد ، کم عمری میں وفات پائی

داغ دہلوی کے شاگرد ، کم عمری میں وفات پائی

1.23K
Favorite

باعتبار

کچھ خبر ہے تجھے او چین سے سونے والے

رات بھر کون تری یاد میں بیدار رہا

اے ہجر وقت ٹل نہیں سکتا ہے موت کا

لیکن یہ دیکھنا ہے کہ مٹی کہاں کی ہے

کبھی یہ فکر کہ وہ یاد کیوں کریں گے ہمیں

کبھی خیال کہ خط کا جواب آئے گا

کہے گی حشر کے دن اس کی رحمت بے حد

کہ بے گناہ سے اچھا گناہگار رہا

شب فراق کچھ ایسا خیال یار رہا

کہ رات بھر دل غم دیدہ بے قرار رہا

کیا رشک ہے کہ ایک کا ہے ایک مدعی

تم دل میں ہو تو درد ہمارے جگر میں ہے

مجھے وہ یاد کرتے ہیں یہ کہہ کر

خدا بخشے نہایت باوفا تھا

ہاں ہاں تمہارے حسن کی کوئی خطا نہیں

میں حسن اتفاق سے دیوانہ ہو گیا

آیا بھی کوئی دل میں گیا بھی کوئی دل سے

آنا نظر آیا نہ یہ جانا نظر آیا

اس بزم میں جو کچھ نظر آیا نظر آیا

اب کون بتائے کہ ہمیں کیا نظر آیا

عکس سے اپنے وہ یوں کہتے ہیں آئینہ میں

آپ اچھے ہیں مگر آپ سے اچھا میں ہوں