Josh Malsiani's Photo'

جوشؔ ملسیانی

1884 - 1976 | جالندھر, ہندوستان

پدم شری ،غیر منقسم پنجاب کے ممتاز شاعر

پدم شری ،غیر منقسم پنجاب کے ممتاز شاعر

1.03K
Favorite

باعتبار

جس کو تم بھول گئے یاد کرے کون اس کو

جس کو تم یاد ہو وہ اور کسے یاد کرے

him whom you have forgotten who else will recall

he who thinks of you will think of no one else at all

him whom you have forgotten who else will recall

he who thinks of you will think of no one else at all

آنے والی ہے کیا بلا سر پر

آج پھر دل میں درد ہے کم کم

مقبول ہوں نہ ہوں یہ مقدر کی بات ہے

سجدے کسی کے در پہ کیے جا رہا ہوں میں

whether or not accepted, it is up to fate

at her doorstep on and on, I myself prostrate

whether or not accepted, it is up to fate

at her doorstep on and on, I myself prostrate

ڈوب جاتے ہیں امیدوں کے سفینے اس میں

میں نہ مانوں گا کہ آنسو ہے ذرا سا پانی

when hope and aspirations drown in them so easily

that tears are just some water, how can I agree

when hope and aspirations drown in them so easily

that tears are just some water, how can I agree

عارضوں پر یہ ڈھلکتے ہوئے آنسو توبہ

ہم نے شعلوں پہ مچلتی ہوئی شبنم دیکھی

lord forbid that tears on your cheeks do flow

like dewdrops agonizing on embers all aglow

lord forbid that tears on your cheeks do flow

like dewdrops agonizing on embers all aglow

اس وہم سے کہ نیند میں آئے نہ کچھ خلل

احباب زیر خاک سلا کر چلے گئے

اور ہوتے ہیں جو محفل میں خموش آتے ہیں

آندھیاں آتی ہیں جب حضرت جوشؔ آتے ہیں

عشق اس درد کا نہیں قائل

جو مصیبت کی انتہا نہ ہوا

یا رہیں اس میں اپنے گھر کی طرح

یا مرے دل میں آپ گھر نہ کریں

جھکتی ہے نگاہ اس کی مجھ سے مل کر

دیوار سے دھوپ اتر رہی ہے گویا

پی لوگے تو اے شیخ ذرا گرم رہوگے

ٹھنڈا ہی نہ کر دیں کہیں جنت کی ہوائیں

یہ ادا ہوئی کہ جفا ہوئی یہ کرم ہوا کہ سزا ہوئی

اسے شوق دید عطا کیا جو نگہ کی تاب نہ لا سکے

is this grace or torment, a favour or a punishment

Lust for sight he has got, but no vision to present

is this grace or torment, a favour or a punishment

Lust for sight he has got, but no vision to present

سوز غم ہی سے مری آنکھ میں آنسو آئے

سوچتا ہوں کہ اسے آگ کہوں یا پانی

گلہ نا مہربانی کا تو سب سے سن لیا تم نے

تمہاری مہربانی کی شکایت ہم بھی رکھتے ہیں

اعمال کی پرسش نہ کر اے داور محشر

مجبور تو مختار کبھی ہو نہیں سکتا

محبت کہاں یہ تو بے چارگی ہے ستم بھی سہیں پھر کرم اس کو سمجھیں

یہ جبر اس لیے کر لیا ہے گوارا کہ اس کے سوا کوئی چارا نہ دیکھا

وہی مرنے کی تمنا وہی جینے کی ہوس

نہ جفائیں تمہیں آئیں نہ وفائیں آئیں

ان کے آنے کی خوشی کیا چیز تھی

اس خوشی سے اور غم پیدا ہوا

نقش الفت مٹ گیا تو داغ لفت ہیں بہت

شکر کر اے دل کہ تیرے گھر کی دولت گھر میں ہے

کس طرح دور ہوں آلام غریب الوطنی

زندگی خود بھی غریب الوطنی ہوتی ہے