Obaidullah Aleem's Photo'

عبید اللہ علیم

1939 - 1998 | کراچی, پاکستان

پاکستان کے ممتاز ترین جدید شاعروں میں شامل

پاکستان کے ممتاز ترین جدید شاعروں میں شامل

22.2K
Favorite

باعتبار

عزیز اتنا ہی رکھو کہ جی سنبھل جائے

اب اس قدر بھی نہ چاہو کہ دم نکل جائے

خواب ہی خواب کب تلک دیکھوں

کاش تجھ کو بھی اک جھلک دیکھوں

کاش دیکھو کبھی ٹوٹے ہوئے آئینوں کو

دل شکستہ ہو تو پھر اپنا پرایا کیا ہے

آنکھ سے دور سہی دل سے کہاں جائے گا

جانے والے تو ہمیں یاد بہت آئے گا

دعا کرو کہ میں اس کے لیے دعا ہو جاؤں

وہ ایک شخص جو دل کو دعا سا لگتا ہے

اب تو مل جاؤ ہمیں تم کہ تمہاری خاطر

اتنی دور آ گئے دنیا سے کنارا کرتے

ایک چہرے میں تو ممکن نہیں اتنے چہرے

کس سے کرتے جو کوئی عشق دوبارا کرتے

ہوا کے دوش پہ رکھے ہوئے چراغ ہیں ہم

جو بجھ گئے تو ہوا سے شکایتیں کیسی

میں تنہا تھا میں تنہا ہوں

تم آؤ تو کیا نہ آؤ تو کیا

جو دل کو ہے خبر کہیں ملتی نہیں خبر

ہر صبح اک عذاب ہے اخبار دیکھنا

جوانی کیا ہوئی اک رات کی کہانی ہوئی

بدن پرانا ہوا روح بھی پرانی ہوئی

زمین جب بھی ہوئی کربلا ہمارے لیے

تو آسمان سے اترا خدا ہمارے لیے

زمیں کے لوگ تو کیا دو دلوں کی چاہت میں

خدا بھی ہو تو اسے درمیان لاؤ مت

ہزار طرح کے صدمے اٹھانے والے لوگ

نہ جانے کیا ہوا اک آن میں بکھر سے گئے

ہائے وہ لوگ گئے چاند سے ملنے اور پھر

اپنے ہی ٹوٹے ہوئے خواب اٹھا کر لے آئے

بڑی آرزو تھی ہم کو نئے خواب دیکھنے کی

سو اب اپنی زندگی میں نئے خواب بھر رہے ہیں

تم ہم سفر ہوئے تو ہوئی زندگی عزیز

مجھ میں تو زندگی کا کوئی حوصلہ نہ تھا

اگر ہوں کچے گھروندوں میں آدمی آباد

تو ایک ابر بھی سیلاب کے برابر ہے

روشنی آدھی ادھر آدھی ادھر

اک دیا رکھا ہے دیواروں کے بیچ

یہ کیسی بچھڑنے کی سزا ہے

آئینے میں چہرہ رکھ گیا ہے

میں اس کو بھول گیا ہوں وہ مجھ کو بھول گیا

تو پھر یہ دل پہ کیوں دستک سی ناگہانی ہوئی

جس کو ملنا نہیں پھر اس سے محبت کیسی

سوچتا جاؤں مگر دل میں بسائے جاؤں

جو آ رہی ہے صدا غور سے سنو اس کو

کہ اس صدا میں خدا بولتا سا لگتا ہے

شکستہ حال سا بے آسرا سا لگتا ہے

یہ شہر دل سے زیادہ دکھا سا لگتا ہے

انسان ہو کسی بھی صدی کا کہیں کا ہو

یہ جب اٹھا ضمیر کی آواز سے اٹھا

تم اپنے رنگ نہاؤ میں اپنی موج اڑوں

وہ بات بھول بھی جاؤ جو آنی جانی ہوئی

مجھ سے مرا کوئی ملنے والا

بچھڑا تو نہیں مگر ملا دے

کھا گیا انساں کو آشوب معاش

آ گئے ہیں شہر بازاروں کے بیچ

دوستو جشن مناؤ کہ بہار آئی ہے

پھول گرتے ہیں ہر اک شاخ سے آنسو کی طرح

میں ایک سے کسی موسم میں رہ نہیں سکتا

کبھی وصال کبھی ہجر سے رہائی دے

پھر اس طرح کبھی سویا نہ اس طرح جاگا

کہ روح نیند میں تھی اور جاگتا تھا میں

پلٹ سکوں ہی نہ آگے ہی بڑھ سکوں جس پر

مجھے یہ کون سے رستے لگا گیا اک شخص

کوئی اور تو نہیں ہے پس خنجر آزمائی

ہمیں قتل ہو رہے ہیں ہمیں قتل کر رہے ہیں

سخن میں سہل نہیں جاں نکال کر رکھنا

یہ زندگی ہے ہماری سنبھال کر رکھنا

باہر کا دھن آتا جاتا اصل خزانہ گھر میں ہے

ہر دھوپ میں جو مجھے سایا دے وہ سچا سایا گھر میں ہے

آؤ تم ہی کرو مسیحائی

اب بہلتی نہیں ہے تنہائی

ہزار راہ چلے پھر وہ رہ گزر آئی

کہ اک سفر میں رہے اور ہر سفر سے گئے

اے میرے خواب آ مری آنکھوں کو رنگ دے

اے میری روشنی تو مجھے راستا دکھا

بولے نہیں وہ حرف جو ایمان میں نہ تھے

لکھی نہیں وہ بات جو اپنی نہیں تھی بات

شاید کہ خدا میں اور مجھ میں

اک جست کا اور فاصلہ ہے

شاید اس راہ پہ کچھ اور بھی راہی آئیں

دھوپ میں چلتا رہوں سائے بچھائے جاؤں

درود پڑھتے ہوئے اس کی دید کو نکلیں

تو صبح پھول بچھائے صبا ہمارے لیے

تو بوئے گل ہے اور پریشاں ہوا ہوں میں

دونوں میں ایک رشتۂ آوارگی تو ہے

اہل دل کے درمیاں تھے میرؔ تم

اب سخن ہے شعبدہ کاروں کے بیچ

کل ماتم بے قیمت ہوگا آج ان کی توقیر کرو

دیکھو خون جگر سے کیا کیا لکھتے ہیں افسانے لوگ

خورشید مثال شخص کل شام

مٹی کے سپرد کر دیا ہے

صبح چمن میں ایک یہی آفتاب تھا

اس آدمی کی لاش کو اعزاز سے اٹھا

جب ملا حسن بھی ہرجائی تو اس بزم سے ہم

عشق آوارہ کو بیتاب اٹھا کر لے آئے