صابر

غزل 14

اشعار 14

چلچلاتی دھوپ تھی لیکن تھا سایہ ہم قدم

سائباں کی چھاؤں نے مجھ کو اکیلا کر دیا

ترے تصور کی دھوپ اوڑھے کھڑا ہوں چھت پر

مرے لیے سردیوں کا موسم ذرا الگ ہے

رکھے رکھے ہو گئے پرانے تمام رشتے

کہاں کسی اجنبی سے رشتہ نیا بنائیں

سارے منظر حسین لگتے ہیں

دوریاں کم نہ ہوں تو بہتر ہے

مجھ سے کل محفل میں اس نے مسکرا کر بات کی

وہ مرا ہو ہی نہیں سکتا یہ پکا کر دیا

کتاب 2

 

آڈیو 7

تمہارے عالم سے میرا عالم ذرا الگ ہے

خوبیوں کو مسخ کر کے عیب جیسا کر دیا

سچ یہی ہے کہ بہت آج گھن آتی ہے مجھے

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI

Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

GET YOUR FREE PASS
بولیے