نہ تھی حال کی جب ہمیں اپنے خبر رہے دیکھتے اوروں کے عیب و ہنر
پڑی اپنی برائیوں پر جو نظر تو نگاہ میں کوئی برا نہ رہا
جب مجھے اپنے حال کی خبر نہ تھی تو میں دوسروں کے عیب و ہنر ہی دیکھتا رہتا تھا۔
جب اپنی برائیوں پر نظر پڑی تو پھر میری نگاہ میں کوئی بھی برا نہ رہا۔
شعر کا مرکزی خیال محاسبۂ نفس ہے: اپنی کیفیت سے بے خبری انسان کو دوسروں کی خامیوں پر نظر رکھنے والا بنا دیتی ہے۔ لیکن جب آدمی اپنی کوتاہیوں کو دیکھتا ہے تو اس میں انکساری آتی ہے اور عیب جوئی کا زہر کم ہو جاتا ہے۔ یوں نگاہ نرم ہو جاتی ہے اور دوسروں کے لیے دل میں گنجائش پیدا ہوتی ہے۔
-
موضوعات : ترغیبیاور 1 مزید
شرط سلیقہ ہے ہر اک امر میں
عیب بھی کرنے کو ہنر چاہئے
ہر معاملے میں سلیقہ اور قرینے کی پابندی ضروری ہے۔
کسی کے عیب نکالنے کے لیے بھی ڈھنگ اور ہنر چاہیے۔
میر تقی میر اس بات پر زور دیتے ہیں کہ سلیقہ ہر کام کی بنیاد ہے۔ بات کرنا ہو یا ٹوکنا، طریقہ نہ ہو تو بات اصلاح کے بجائے دل آزاری بن جاتی ہے۔ اس شعر میں عیب جوئی کو بھی ایک ذمہ دارانہ فن کہا گیا ہے، جس میں نرمی اور سمجھ داری ضروری ہے۔
ہمارے عیب نے بے عیب کر دیا ہم کو
یہی ہنر ہے کہ کوئی ہنر نہیں آتا
-
موضوع : ہنر
حسن یہ ہے کہ دل ربا ہو تم
عیب یہ ہے کہ بے وفا ہو تم
دوست ہر عیب چھپا لیتے ہیں
کوئی دشمن بھی ترا ہے کہ نہیں
-
موضوعات : دشمناور 2 مزید
سب کی طرح تو نے بھی مرے عیب نکالے
تو نے بھی خدایا مری نیت نہیں دیکھی
خوش نصیبی میں ہے یہی اک عیب
بد نصیبوں کے گھر نہیں آتی
میں اس کے عیب اس کو بتاتا بھی کس طرح
وہ شخص آج تک مجھے تنہا نہیں ملا
ہم کو آپس میں محبت نہیں کرنے دیتے
اک یہی عیب ہے اس شہر کے داناؤں میں
-
موضوعات : سماجی ہم آہنگیاور 1 مزید
کسی کے عیب چھپانا ثواب ہے لیکن
کبھی کبھی کوئی پردہ اٹھانا پڑتا ہے
اک دن وہ میرے عیب گنانے لگا فراغؔ
جب خود ہی تھک گیا تو مجھے سوچنا پڑا
سچ ہے اس ایک پردے میں چھپتے ہیں لاکھ عیب
یعنی جناب شیخ کی داڑھی دراز ہے
ہمارے عیب میں جس سے مدد ملے ہم کو
ہمیں ہے آج کل ایسے کسی ہنر کی تلاش
-
موضوع : ہنر
تیشہ بکف کو آئینہ گر کہہ دیا گیا
جو عیب تھا اسے بھی ہنر کہہ دیا گیا
-
موضوع : ہنر
قائمؔ میں اختیار کیا شاعری کا عیب
پہنچا نہ کوئی شخص جب اپنے ہنر تلک
بہت ملنے سے عیب دکھتے ہیں کم کم
بہت دیکھتے ہیں جو کم دیکھتے ہیں
-
موضوع : دیدار
پاس تھا زر تو کوئی عیب نہ تھا
سب عیوب آئے بے زری کے ساتھ
-
موضوع : دولت
کہیں پہ نقص ملے اور کوئی بات بنے
وہ ڈھونڈتے ہیں مرے سود میں زیاں سا کچھ