Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

عیب پر اشعار

نہ تھی حال کی جب ہمیں اپنے خبر رہے دیکھتے اوروں کے عیب و ہنر

پڑی اپنی برائیوں پر جو نظر تو نگاہ میں کوئی برا نہ رہا

جب مجھے اپنے حال کی خبر نہ تھی تو میں دوسروں کے عیب و ہنر ہی دیکھتا رہتا تھا۔

جب اپنی برائیوں پر نظر پڑی تو پھر میری نگاہ میں کوئی بھی برا نہ رہا۔

شعر کا مرکزی خیال محاسبۂ نفس ہے: اپنی کیفیت سے بے خبری انسان کو دوسروں کی خامیوں پر نظر رکھنے والا بنا دیتی ہے۔ لیکن جب آدمی اپنی کوتاہیوں کو دیکھتا ہے تو اس میں انکساری آتی ہے اور عیب جوئی کا زہر کم ہو جاتا ہے۔ یوں نگاہ نرم ہو جاتی ہے اور دوسروں کے لیے دل میں گنجائش پیدا ہوتی ہے۔

بہادر شاہ ظفر

شرط سلیقہ ہے ہر اک امر میں

عیب بھی کرنے کو ہنر چاہئے

ہر معاملے میں سلیقہ اور قرینے کی پابندی ضروری ہے۔

کسی کے عیب نکالنے کے لیے بھی ڈھنگ اور ہنر چاہیے۔

میر تقی میر اس بات پر زور دیتے ہیں کہ سلیقہ ہر کام کی بنیاد ہے۔ بات کرنا ہو یا ٹوکنا، طریقہ نہ ہو تو بات اصلاح کے بجائے دل آزاری بن جاتی ہے۔ اس شعر میں عیب جوئی کو بھی ایک ذمہ دارانہ فن کہا گیا ہے، جس میں نرمی اور سمجھ داری ضروری ہے۔

میر تقی میر

ہمارے عیب نے بے عیب کر دیا ہم کو

یہی ہنر ہے کہ کوئی ہنر نہیں آتا

مرزارضا برق ؔ

حسن یہ ہے کہ دل ربا ہو تم

عیب یہ ہے کہ بے وفا ہو تم

جلیل مانک پوری

دوست ہر عیب چھپا لیتے ہیں

کوئی دشمن بھی ترا ہے کہ نہیں

باقی صدیقی

سب کی طرح تو نے بھی مرے عیب نکالے

تو نے بھی خدایا مری نیت نہیں دیکھی

شہزاد احمد

خوش نصیبی میں ہے یہی اک عیب

بد نصیبوں کے گھر نہیں آتی

رسا جالندھری

میں اس کے عیب اس کو بتاتا بھی کس طرح

وہ شخص آج تک مجھے تنہا نہیں ملا

اعجاز وارثی

ہم کو آپس میں محبت نہیں کرنے دیتے

اک یہی عیب ہے اس شہر کے داناؤں میں

قتیل شفائی

کسی کے عیب چھپانا ثواب ہے لیکن

کبھی کبھی کوئی پردہ اٹھانا پڑتا ہے

اظہر عنایتی

اک دن وہ میرے عیب گنانے لگا فراغؔ

جب خود ہی تھک گیا تو مجھے سوچنا پڑا

فراغ روہوی

سچ ہے اس ایک پردے میں چھپتے ہیں لاکھ عیب

یعنی جناب شیخ کی داڑھی دراز ہے

حفیظ جونپوری

ہمارے عیب میں جس سے مدد ملے ہم کو

ہمیں ہے آج کل ایسے کسی ہنر کی تلاش

ناطق گلاوٹھی

تیشہ بکف کو آئینہ گر کہہ دیا گیا

جو عیب تھا اسے بھی ہنر کہہ دیا گیا

انجم عرفانی

قائمؔ میں اختیار کیا شاعری کا عیب

پہنچا نہ کوئی شخص جب اپنے ہنر تلک

قائم چاندپوری

بہت ملنے سے عیب دکھتے ہیں کم کم

بہت دیکھتے ہیں جو کم دیکھتے ہیں

پریمودا الحان

پاس تھا زر تو کوئی عیب نہ تھا

سب عیوب آئے بے زری کے ساتھ

موہن سنگھ دیوانہ

کہیں پہ نقص ملے اور کوئی بات بنے

وہ ڈھونڈتے ہیں مرے سود میں زیاں سا کچھ

ہمدم کاشمیری
بولیے