کیسے کہیں کہ تجھ کو بھی ہم سے ہے واسطہ کوئی
تو نے تو ہم سے آج تک کوئی گلہ نہیں کیا
-
موضوع : شکوہ
ہم کو مٹا سکے یہ زمانہ میں دم نہیں
ہم سے زمانہ خود ہے زمانے سے ہم نہیں
-
موضوعات : ترغیبیاور 3 مزید
سورج ہوں زندگی کی رمق چھوڑ جاؤں گا
میں ڈوب بھی گیا تو شفق چھوڑ جاؤں گا
-
موضوعات : فلمی اشعاراور 1 مزید
ہم سفر چاہیئے ہجوم نہیں
اک مسافر بھی قافلہ ہے مجھے
کیا ہے جو ہو گیا ہوں میں تھوڑا بہت خراب
تھوڑا بہت خراب تو ہونا بھی چاہئے
کاش وہ راستے میں مل جائے
مجھ کو منہ پھیر کر گزرنا ہے
-
موضوع : راستہ
راس آنے لگی دنیا تو کہا دل نے کہ جا
اب تجھے درد کی دولت نہیں ملنے والی
-
موضوعات : درداور 2 مزید
کیا کہیں کتنے مراسم تھے ہمارے اس سے
وہ جو اک شخص ہے منہ پھیر کے جانے والا
انقلاب ایک خواب ہے سو ہے
دل کی دنیا خراب ہے سو ہے
چاہئے ہے مجھے انکار محبت مرے دوست
لیکن اس میں ترا انکار نہیں چاہئے ہے
ہم ایسے جائیں گے لے کر بلائیں دنیا کی
کہیں نہ ہوگا کوئی حادثہ ہمارے بعد
چاہیں تو اس کو تیغ خموشی سے کاٹ دیں
لیکن جنوں سے جنگ زبانی کریں گے ہم
مجھے کریدنے والو میں ایک صحرا ہوں
کہ مجھ سے ریت ہی نکلے گی آبشار نہیں
-
موضوعات : خودیاور 1 مزید
پلٹ کے سنگ تری اور پھینک سکتا ہوں
کہ میں وہ قیس نہیں ہوں جو مار کھا جائے
کیوں اتنے مغرور ہیں راہیؔ کیوں اتنا اتراتے ہیں
گنگا تٹ ویران نہ ہوگا اک ان کے اٹھ جانے سے
-
موضوعات : تہذیبی میراثاور 2 مزید
وہ محبتوں کے موسم تجھے یاد بھی ہیں ہمدم
مرا ایک بار سننا تیرا بار بار کہنا
-
موضوعات : بے رخیاور 1 مزید
اک محبت ہے اور اس کا بھی
کیا تماشہ بنا رہی ہوں میں
-
موضوع : محبت
میں ایسا سفینہ ہوں کہ ساحل کی صدا پر
طوفان کے سینے میں اتر جاتا ہوں اکثر
سر جمشید کو خشت خم صہبا سے ٹکرا دیں
گدائے مے کدہ بھی کس قدر مغرور ہوتے ہیں
-
موضوعات : شراباور 1 مزید
ہم کو تجدید ملاقات سے کب ہے انکار
لیکن اب پہلے انہیں ہاتھ بڑھانا ہوگا
-
موضوع : ملاقات
ہاتھ الجھنے لگے جیب و داماں سے کیوں
اے جنوں کیا بہاروں کے دن آ گئے
-
موضوعات : بہاراور 1 مزید
دل ایذا طلب کو مژدۂ آرام بے معنی
یہ وہ کشتی ہے جو طوفان سے ٹکرائی جاتی ہے
-
موضوع : کشتی
تلاطم خیز طوفانوں سے ٹکراتے رہے ہر دم
ڈبو دی ہم نے خود کشتی جوں ہی ساحل نظر آیا
-
موضوعات : ساحلاور 1 مزید