مصنف : انتظار حسین

ناشر : ایجوکیشنل پبلیشنگ ہاؤس، دہلی

سن اشاعت : 1993

زبان : Urdu

موضوعات : افسانہ

صفحات : 151

ISBN نمبر /ISSN نمبر : 81-85360-86-3

معاون : مدھیہ پردیش اردو اکیڈمی، بھوپال

آخری آدمی

کتاب: تعارف

انتظار حسین کا شمار ارد کے اہم افسانہ نگاروں میں ہوتا ہے ان کے ناول اور افسانے ادب کی بلندی پر فائز ہیں ۔ ان کا کمال یہ تھا کہ وہ علامتی اور استعاراتی اسلوب کو نت نئے ڈھنگ سے بالکل اچھوتے انداز میں استعمال کرنے والے فن کار تھے ۔ان کا فن عوامی نہیں ہے بلکہ عام قاری کی فہم و بصارت سے کوسوں دور نظر آتا ہے ۔ ان کی تخلیق کا مطالعہ کر نے کے لیے وسیع مطالعہ ضروری ہے ۔ان کی کہانیوں میں چار طرح کے رنگ نظرآتے ہیں اول معاشر ہ کی عکاسی ، دوم رومانویت واخلاقیت کی منظر کشی اس میں وہ اخلاق ورومان کے زوال کے قصے بیان کرتے ہیں ۔سوم سیاسی اورسماجی اور چہارم نفسیاتی رنگ ہے ۔ ان کے علاوہ ہندودیومالائی اور بودھ جاتک کتھاؤں کابھی رنگ ان کے افسانوں میں جابجا نظرآتا ہے ۔ ’’ آخری آدمی ‘‘ ان کامشہور افسانہ اور افسانوی مجموعہ بھی ہے ۔اس میں کل بارہ افسانے ہیں۔ سجاد باقر رضوی اس افسانوی مجموعہ کے دیباچہ میں لکھتے ہیں، ’’انتظار حسین کے افسانوں میں فرد کا وجود پورے قومی وجودکا ایک حصہ ہے ۔ اسی سبب سے ان کے اسلوب میں بھی علامتی طریق کار یا تلازمہ خیال پورے معاشرے کی علامتوں اور تہذیبی شعور کو بروئے کار لاتا ہے۔‘‘ الغرض ان کے افسانوں نے اردو افسانہ نگاری میں ایک نئی شناخت قائم کی ہے اور عالمی طور پر بھی وہ اپنی افسانہ نگاری کی وجہ سے ہی مشہور و معروف ہوئے اور ’’بُکر‘‘ پر ائز کی فہرست میں بھی شامل ہوئے۔

.....مزید پڑھئے

مصنف: تعارف

انتظار حسین 21 دسمبر 1925ءکو ڈبائی ضلع بلند شہر میں پیدا ہوئے۔ میرٹھ کالج سے بی اے  اور ایم اے اردو کیا۔ قیام پاکستان کے بعد لاہور میں قیام پذیر ہوئے، جہاں وہ صحافت کے شعبے سے وابستہ ہوگئے۔

انتظار حسین کا پہلا افسانوی مجموعہ ”گلی کوچے“ 1952ء میں شائع ہوا۔ روزنامہ مشرق میں طویل عرصے تک چھپنے والے کالم لاہور نامہ کو بہت شہرت ملی۔ اس کے علاوہ ریڈیو میں بھی کالم نگاری کرتے رہے۔ افسانہ نگاری اور ناول نگاری میں ان کو ایک خاص مقام حاصل ہے۔

انتظار حسین اردو افسانے کا ایک معتبر نام ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے اسلوب، بدلتے لہجوں اور کرافٹنگ کے باعث آج بھی پیش منظر کے افسانہ نگاروں کے لیے بڑا چیلنج ہے۔ ان کی اہمیت یوں بھی ہے کہ انہوں نے داستانوی فضا، اس کی کردار نگاری اور اسلوب کا اپنے عصری تقاضوں کے تحت برتاہے۔ ان کی تحریروں کی فضا ماضی کے داستانوں کی بازگشت ہے۔ انتظار حسین نے اساطیری رجحان کو بھی اپنی تحریروں کا حصہ بنایا۔ ان کے یہاں نوسٹیلجیا، کلاسیک سے محبت، ماضی پرستی، ماضی پر نوحہ خوانی اور روایت میں پناہ کی تلاش بہت نمایاں ہے۔ پرانی اقدارکے بکھرنے اور نئی اقدار کے سطحی اور جذباتی ہونے کا دکھ اور اظہار، انداز اور لہجہ بہت شدید ہوجاتا ہے۔ وہ علامتی اور استعاراتی اسلوب کے نت نئے ڈھنگ سے استعمال کرنے والے افسانہ نگار ہیں لیکن اپنی تمام تر ماضی پرپرستی اور مستقبل سے فرار اور انکار کے باوجود ان کی تحریروں میں ایک عجیب طرح کا سوز اورحسن ہے۔

انتظار حسین کی تصانیف میں آخری آدمی، شہر افسوس، آگے سمندر ہے، بستی، چاند گہن، گلی کوچے، کچھوے، خالی پنجرہ، خیمے سے دور، دن اور داستان، علامتوں کا زوال، بوند بوند، شہرزاد کے نام، زمیں اور فلک، چراغوں کا دھواں، دلی تھا جس کا نام، جستجو کیا ہے، قطرے میں دریا، جنم کہانیاں، قصے کہانیاں، شکستہ ستون پر دھوپ، سعید کی پراسرار زندگی، کے نام سر فہرست ہیں۔

انتظار حسین پاکستان کے پہلے ادیب تھے جن کا نام مین بکر پرائز کے لیے شارٹ لسٹ کیا گیا تھا۔ انھیں حکومت پاکستان نے ستارہ امتیاز اور اکادمی ادبیات پاکستان نے پاکستان کے سب سے بڑ ے ادبی اعزاز کمال فن ایوارڈ سے بھی نوازا تھا۔

یہ تحریر عقیل عباس جعفری کی ہے جو ایک معروف ادیب ہیں۔ 

.....مزید پڑھئے

مصنف کی مزید کتابیں

مصنف کی دیگر کتابیں یہاں پڑھئے۔

مزید

قارئین کی پسند

اگر آپ دوسرے قارئین کی دلچسپیوں میں تجسس رکھتے ہیں، تو ریختہ کے قارئین کی پسندیدہ

مزید

مقبول و معروف

مقبول و معروف اور مروج کتابیں یہاں تلاش کریں

مزید
بولیے