Anees Ansari's Photo'

انیس انصاری

1949 | فتح پور, ہندوستان

109
Favorite

باعتبار

میں نے آنکھوں میں جلا رکھا ہے آزادی کا تیل

مت اندھیروں سے ڈرا رکھ کہ میں جو ہوں سو ہوں

بڑا آزار جاں ہے وہ اگرچہ مہرباں ہے وہ

اگرچہ مہرباں ہے وہ بڑا آزار جاں ہے وہ

نام تیرا بھی رہے گا نہ ستم گر باقی

جب ہے فرعون نہ چنگیز کا لشکر باقی

کبھی درویش کے تکیہ میں بھی آ کر دیکھو

تنگ دستی میں بھی آرام میسر نکلا

لاش قاتل نے کھلی پھینک دی چوراہے پر

دیکھنے والا کوئی گھر سے نہ باہر نکلا

تری محفل میں سب بیٹھے ہیں آ کر

ہمارا بیٹھنا دشوار کیوں ہے

ہر ایک شخص تمہاری طرح نہیں ہوتا

کوئی کسی سے محبت کہاں کرے کیسے

تم کو بھی پہچان نہیں ہے شاید میری الجھن کی

لیکن ہم ملتے رہتے تو اچھا ہی رہتا جانم

ہجر کے چھوٹے گاؤں سے ہم نے شہر وصل کو ہجرت کی

شہر وصل نے نیند اڑا کر خوابوں کو پامال کیا

ایک غم ہوتا تو سینے سے لگا لیتا کوئی

غم کا انبار اٹھانے پہ نہ پہنچا آخر

بنا کر رکھ تو گھر اچھا رہے گا

تو مالک بن کرایہ دار کیوں ہے

تم درد کی لذت کیا جانو کب تم نے چکھے ہیں زہر سبو

ہم اپنے وجود کے شاہد ہیں سنگسار ہوئے شمشیر ہوئے

جو پرندے اڑ نہیں سکتے اب ان کی خیر ہو

آنے والا ہے اسی جانب شکاری ہائے ہائے

توتلی عمر میں جو بچہ ذرا مشفق تھا

کچھ بڑا ہو کے دہانے پہ نہ پہنچا آخر

تری آنکھوں نے دھویا ہے مجھے یوں

میں بالکل صاف ستھرا ہو گیا ہوں

ہجر میں ویسے بھی آتی ہے مصیبت جان پر

پر رقیبوں کی الگ ہے خندہ کاری ہائے ہائے