Azhar Inayati's Photo'

اظہر عنایتی

1946 | رام پور, ہندوستان

رام پور دبستان کے اہم شاعر/ محشر عنایتی کے شاگرد

رام پور دبستان کے اہم شاعر/ محشر عنایتی کے شاگرد

2.7K
Favorite

باعتبار

ہر ایک رات کو مہتاب دیکھنے کے لیے

میں جاگتا ہوں ترا خواب دیکھنے کے لیے

یہ اور بات کہ آندھی ہمارے بس میں نہیں

مگر چراغ جلانا تو اختیار میں ہے

وہ تازہ دم ہیں نئے شعبدے دکھاتے ہوئے

عوام تھکنے لگے تالیاں بجاتے ہوئے

اپنی تصویر بناؤ گے تو ہوگا احساس

کتنا دشوار ہے خود کو کوئی چہرہ دینا

کسی کے عیب چھپانا ثواب ہے لیکن

کبھی کبھی کوئی پردہ اٹھانا پڑتا ہے

کبھی قریب کبھی دور ہو کے روتے ہیں

محبتوں کے بھی موسم عجیب ہوتے ہیں

عجب جنون ہے یہ انتقام کا جذبہ

شکست کھا کے وہ پانی میں زہر ڈال آیا

غزل کا شعر تو ہوتا ہے بس کسی کے لیے

مگر ستم ہے کہ سب کو سنانا پڑتا ہے

خود کشی کے لیے تھوڑا سا یہ کافی ہے مگر

زندہ رہنے کو بہت زہر پیا جاتا ہے

راستو کیا ہوئے وہ لوگ کہ آتے جاتے

میرے آداب پہ کہتے تھے کہ جیتے رہیے

وہ تڑپ جائے اشارہ کوئی ایسا دینا

اس کو خط لکھنا تو میرا بھی حوالہ دینا

سنبھل کے چلنے کا سارا غرور ٹوٹ گیا

اک ایسی بات کہی اس نے لڑکھڑاتے ہوئے

اس راستے میں جب کوئی سایہ نہ پائے گا

یہ آخری درخت بہت یاد آئے گا

ہوا اجالا تو ہم ان کے نام بھول گئے

جو بجھ گئے ہیں چراغوں کی لو بڑھاتے ہوئے

خود اپنے پاؤں بھی لوگوں نے کر لیے زخمی

ہماری راہ میں کانٹے یہاں بچھاتے ہوئے

یہ الگ بات کہ میں نوح نہیں تھا لیکن

میں نے کشتی کو غلط سمت میں بہنے نہ دیا

لوگ یوں کہتے ہیں اپنے قصے

جیسے وہ شاہ جہاں تھے پہلے

یہ بھی رہا ہے کوچۂ جاناں میں اپنا رنگ

آہٹ ہوئی تو چاند دریچے میں آ گیا

تمام شہر میں کس طرح چاندنی پھیلی

کہ ماہتاب تو کل رات میرے گھر میں تھا

میری خاموشی پہ تھے جو طعنہ زن

شور میں اپنے ہی بہرے ہو گئے

پلٹ چلیں کہ غلط آ گئے ہمیں شاید

رئیس لوگوں سے ملنے کے وقت ہوتے ہیں

یہ مسخروں کو وظیفے یوں ہی نہیں ملتے

رئیس خود نہیں ہنستے ہنسانا پڑتا ہے

آج شہروں میں ہیں جتنے خطرے

جنگلوں میں بھی کہاں تھے پہلے

پرانے عہد میں بھی دشمنی تھی

مگر ماحول زہریلا نہیں تھا

اپنے آنچل میں چھپا کر مرے آنسو لے جا

یاد رکھنے کو ملاقات کے جگنو لے جا

مجھ کو بھی جاگنے کی اذیت سے دے نجات

اے رات اب تو گھر کے در و بام سو گئے

وہ جس کے صحن میں کوئی گلاب کھل نہ سکا

تمام شہر کے بچوں سے پیار کرتا تھا

شکستگی میں بھی کیا شان ہے عمارت کی

کہ دیکھنے کو اسے سر اٹھانا پڑتا ہے

نیا خوں رگوں میں رواں کر دیا

غزل ہم نے تجھ کو جواں کر دیا

جہاں ضدیں کیا کرتا تھا بچپنا میرا

کہاں سے لاؤں کھلونوں کی ان دکانوں کو

آج بھی شام غم! اداس نہ ہو

مانگ کر میں چراغ لاتا ہوں

چوراہوں کا تو حسن بڑھا شہر کے مگر

جو لوگ نامور تھے وہ پتھر کے ہو گئے

جوانوں میں تصادم کیسے رکتا

قبیلے میں کوئی بوڑھا نہیں تھا

نقش مٹتے ہیں تو آتا ہے خیال

ریت پر ہم بھی کہاں تھے پہلے

ہم عصروں میں یہ چھیڑ چلی آئی ہے اظہرؔ

یاں ذوقؔ نے غالبؔ کو بھی غالب نہیں سمجھا

میں جسے ڈھونڈنے نکلا تھا اسے پا نہ سکا

اب جدھر جی ترا چاہے مجھے خوشبو لے جا

جوان ہو گئی اک نسل سنتے سنتے غزل

ہم اور ہو گئے بوڑھے غزل سناتے ہوئے

گھر سے کس طرح میں نکلوں کہ یہ مدھم سا چراغ

میں نہیں ہوں گا تو تنہائی میں بجھ جائے گا

ان کے بھی اپنے خواب تھے اپنی ضرورتیں

ہم سایے کا مگر وہ گلا کاٹتے رہے

تمام شہر سے بد ظن کرا دیا شہہ کو

مصاحبوں کا خدا جانے تھا ارادہ کیا

اس کار آگہی کو جنوں کہہ رہے ہیں لوگ

محفوظ کر رہے ہیں فضا میں صدائیں ہم

کرنے کو روشنی کے تعاقب کا تجربہ

کچھ دور میرے ساتھ بھی پرچھائیاں گئیں

سب دیکھ کر گزر گئے اک پل میں اور ہم

دیوار پر بنے ہوئے منظر میں کھو گئے

تاریخ بھی ہوں اتنے برس کی مورخو

چہرے پہ میرے جتنے برس کی یہ گرد ہے

کیا رہ گیا ہے شہر میں کھنڈرات کے سوا

کیا دیکھنے کو اب یہاں آئے ہوئے ہیں لوگ

اب مرے بعد کوئی سر بھی نہیں ہوگا طلوع

اب کسی سمت سے پتھر بھی نہیں آئے گا