واصف علی واصف کے اشعار
یار کی یاد بن کے رہتا ہے
زخم کا اندمال کیا ہوگا
محشر سے کم نہیں ہے یہ ہنگام زندگی
پھرتے ہیں لاکھوں آدمی تنہا نگر میں گم
یہ ہے مے خانہ و صنم خانہ
راہ کے انتخاب کے دن ہیں
مل چکے خاک میں مگر تیرا
دل ابھی انتظار کرتا ہے
تمہاری بے رخی کو خاک پروا
تری محفل میں کوئی خاک آئے
-
موضوع : بے زاری
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
ہمارے پاس ہی وہ آ رہے تھے
بجا ہے ہم وہاں بے جا گئے ہیں
-
موضوع : وصل
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
بڑے وثوق سے ہم میکدے میں آئے تھے
نگاہ ساقی جو اٹھی تو تشنگی نہ رہی
ندامت سے مرا سر جھک گیا ہے
مجھے حاجت ہوئی جب بھی دعا کی
-
موضوع : دعا
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
ایک گرداب سے مر مر کے سفینہ نکلا
سر پہ طوفان بھی ہے سامنے منجدھار بھی ہے
-
موضوع : کشتی
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
تجھے اک بار کیا واصفؔ نے دیکھا
تجھے پھر دیکھنے کی آرزو ہے
تیری ہستی کا راز ہے پیسہ
سامنا نیستاں سے کرتا ہے
گلشن میں اپنا کون تھا ساتھی نہ آشیاں
رکھ لی قفس نے آبرو فصل بہار میں
میں ایسا سفینہ ہوں کہ ساحل کی صدا پر
طوفان کے سینے میں اتر جاتا ہوں اکثر
-
موضوع : ایٹی ٹیوڈ
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
ہر اک تعمیر کی تخریب ضد ہے
تری منزل مری منزل نہیں ہے
-
موضوع : منزل
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
ترے فراق میں صدیاں گزار دیں ہیں مگر
تمہارے جیسے ملے لاکھ ہو بہ ہو نہ ہوئے
-
موضوع : انتظار
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
خود ہوا ہے جلوہ گر حسن ازل
ہے جنوں کی سلطنت عاجز دماغ
چند لمحوں میں رات ختم ہوئی
صبح خنداں یہ کیا کیا تو نے
-
موضوع : رات
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
دامن صبر اب کہاں واصفؔ
ہر رگ تار خار دیکھا ہے
-
موضوع : عشق
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
ناخدا نے سفینۂ امید
عین طوفاں میں لا کے چھوڑ دیا
-
موضوع : کشتی
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
ہم تجھ کو دکھا دیتے خدائی کا تماشہ
سو باتوں کی اک بات کہ انسان ہوئے ہم
تمہاری زلف بکھرتی تھی جن کے شانوں پر
تمہاری بزم میں وہ لوگ اب پرائے ہیں
-
موضوع : زلف
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
آ بھی جاؤ کہ زیست ختم ہوئی
رہ گئی تاب انتظار کہاں
ساقی کی نظر سے پی میں نے میخانے میں کہرام مچا
رندوں نے بہت پوچھا لیکن میں نام بتانا بھول گیا
ناخدا نے سفینۂ امید
عین طوفاں میں لا کے چھوڑ دیا
-
موضوع : کشتی
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
آج واصفؔ کا نشیمن جل گیا
کل یہی گلشن تمہیں جلتا ملے
راز تسلیم جب کھلا واصفؔ
نقش ہستی مٹا دیا میں نے
-
موضوع : بندگی
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
میں حسن مجسم ہوں میں گیسوئے برہم ہوں
میں پھول ہوں شبنم ہوں میں جلوۂ جانانہ
تلاطم خیز طوفانوں سے ٹکراتے رہے ہر دم
ڈبو دی ہم نے خود کشتی جوں ہی ساحل نظر آیا
ہو گئی دید موت سے پہلے
آج ارماں نکل گئے سارے
-
موضوع : موت
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
میرے افسانے سے ہے تیرا فسانہ قائم
چاہ زنداں سے ترے حسن بیاں تک دیکھوں
-
موضوع : زنداں
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
رقص بسمل نے کسی دل میں اٹھائے طوفاں
شمع افسردہ کہ پروانہ جلا آج کی رات
-
موضوع : شمع
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
خود دار ہوں خود سر ہوں میں خود مست ہوں لیکن
تو سامنے آ جائے تو سر آج بھی خم ہے