Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Wasif Ali Wasif's Photo'

واصف علی واصف

1929 - 1993 | لاہور, پاکستان

پاکستان کے مشہور صوفی دانشور، شاعر، ادیب اور کالم نگار

پاکستان کے مشہور صوفی دانشور، شاعر، ادیب اور کالم نگار

واصف علی واصف کے اشعار

باعتبار

یار کی یاد بن کے رہتا ہے

زخم کا اندمال کیا ہوگا

محشر سے کم نہیں ہے یہ ہنگام زندگی

پھرتے ہیں لاکھوں آدمی تنہا نگر میں گم

یہ ہے مے خانہ و صنم خانہ

راہ کے انتخاب کے دن ہیں

مل چکے خاک میں مگر تیرا

دل ابھی انتظار کرتا ہے

تمہاری بے رخی کو خاک پروا

تری محفل میں کوئی خاک آئے

ہمارے پاس ہی وہ آ رہے تھے

بجا ہے ہم وہاں بے جا گئے ہیں

بڑے وثوق سے ہم میکدے میں آئے تھے

نگاہ ساقی جو اٹھی تو تشنگی نہ رہی

ندامت سے مرا سر جھک گیا ہے

مجھے حاجت ہوئی جب بھی دعا کی

ایک گرداب سے مر مر کے سفینہ نکلا

سر پہ طوفان بھی ہے سامنے منجدھار بھی ہے

تجھے اک بار کیا واصفؔ نے دیکھا

تجھے پھر دیکھنے کی آرزو ہے

تیری ہستی کا راز ہے پیسہ

سامنا نیستاں سے کرتا ہے

گلشن میں اپنا کون تھا ساتھی نہ آشیاں

رکھ لی قفس نے آبرو فصل بہار میں

میں ایسا سفینہ ہوں کہ ساحل کی صدا پر

طوفان کے سینے میں اتر جاتا ہوں اکثر

ہر اک تعمیر کی تخریب ضد ہے

تری منزل مری منزل نہیں ہے

ترے فراق میں صدیاں گزار دیں ہیں مگر

تمہارے جیسے ملے لاکھ ہو بہ ہو نہ ہوئے

خود ہوا ہے جلوہ گر حسن ازل

ہے جنوں کی سلطنت عاجز دماغ

چند لمحوں میں رات ختم ہوئی

صبح خنداں یہ کیا کیا تو نے

دامن صبر اب کہاں واصفؔ

ہر رگ تار خار دیکھا ہے

ناخدا نے سفینۂ امید

عین طوفاں میں لا کے چھوڑ دیا

ہم تجھ کو دکھا دیتے خدائی کا تماشہ

سو باتوں کی اک بات کہ انسان ہوئے ہم

تمہاری زلف بکھرتی تھی جن کے شانوں پر

تمہاری بزم میں وہ لوگ اب پرائے ہیں

آ بھی جاؤ کہ زیست ختم ہوئی

رہ گئی تاب انتظار کہاں

ساقی کی نظر سے پی میں نے میخانے میں کہرام مچا

رندوں نے بہت پوچھا لیکن میں نام بتانا بھول گیا

ناخدا نے سفینۂ امید

عین طوفاں میں لا کے چھوڑ دیا

آج واصفؔ کا نشیمن جل گیا

کل یہی گلشن تمہیں جلتا ملے

راز تسلیم جب کھلا واصفؔ

نقش ہستی مٹا دیا میں نے

میں حسن مجسم ہوں میں گیسوئے برہم ہوں

میں پھول ہوں شبنم ہوں میں جلوۂ جانانہ

تلاطم خیز طوفانوں سے ٹکراتے رہے ہر دم

ڈبو دی ہم نے خود کشتی جوں ہی ساحل نظر آیا

ہو گئی دید موت سے پہلے

آج ارماں نکل گئے سارے

میرے افسانے سے ہے تیرا فسانہ قائم

چاہ زنداں سے ترے حسن بیاں تک دیکھوں

رقص بسمل نے کسی دل میں اٹھائے طوفاں

شمع افسردہ کہ پروانہ جلا آج کی رات

خود دار ہوں خود سر ہوں میں خود مست ہوں لیکن

تو سامنے آ جائے تو سر آج بھی خم ہے

Recitation

بولیے