Kashif Husain Ghair's Photo'

کاشف حسین غائر

1979 | کراچی, پاکستان

نئی نسل کے نمائندہ شاعر

نئی نسل کے نمائندہ شاعر

1.3K
Favorite

باعتبار

حال پوچھا نہ کرے ہاتھ ملایا نہ کرے

میں اسی دھوپ میں خوش ہوں کوئی سایہ نہ کرے

ہماری زندگی پر موت بھی حیران ہے غائرؔ

نہ جانے کس نے یہ تاریخ پیدائش نکالی ہے

کیا چاہتی ہے ہم سے ہماری یہ زندگی

کیا قرض ہے جو ہم سے ادا ہو نہیں رہا

کل رات جگاتی رہی اک خواب کی دوری

اور نیند بچھاتی رہی بستر مرے آگے

دھوپ سائے کی طرح پھیل گئی

ان درختوں کی دعا لینے سے

زندگی دھوپ میں آنے سے کھلی

سایہ دیوار اٹھانے سے کھلا

نظر ملی تو نظاروں میں بانٹ دی میں نے

یہ روشنی بھی ستاروں میں بانٹ دی میں نے

شور جتنا ہے کائنات میں شور

میرے اندر کی خامشی سے ہوا

موت کا کیا کام جب اس شہر میں

زندگی جیسی بلا موجود ہے

یہ ہوا یوں ہی خاک چھانتی ہے

یا کوئی چیز کھو گئی ہے یہاں

نیند اڑنے لگی ہے آنکھوں سے

دھول جمنے لگی ہے بستر پر

زمیں آباد ہوتی جا رہی ہے

کہاں جائے گی تنہائی ہماری

نہ ہم وحشت میں اپنے گھر سے نکلے

نہ صحرا اپنی ویرانی سے نکلا

تیرا خیال تیری تمنا تک آ گیا

میں دل کو ڈھونڈھتا ہوا دنیا تک آ گیا

ہمارے دل کی طرح شہر کے یہ رستے بھی

ہزار بھید چھپائے ہوئے سے لگتے ہیں

اک دن دکھ کی شدت کم پڑ جاتی ہے

کیسی بھی ہو وحشت کم پڑ جاتی ہے

مجھ سے رستوں کا بچھڑنا نہیں دیکھا جاتا

مجھ سے ملنے وہ کسی موڑ پہ آیا نہ کرے

زندگی میں کسک ضروری تھی

یہ خلا پر تری کمی سے ہوا

کیا کہیں اور دل کے بارے میں

ہم ملازم ہیں اس ادارے میں

صحرا میں آ نکلے تو معلوم ہوا

تنہائی کو وسعت کم پڑ جاتی ہے

ان ستاروں میں کہیں تم بھی ہو

ان نظاروں میں کہیں میں بھی ہوں

پیڑ ہو یا کہ آدمی غائرؔ

سر بلند اپنی عاجزی سے ہوا

میرے اندر کا شور ہے مجھ میں

ورنہ باہر تو خامشی ہے یہاں

مجھ سے منسوب ہے غبار مرا

قافلے میں نہ کر شمار مرا

کچھ دیر بیٹھ جائیے دیوار کے قریب

کیا کہہ رہا ہے سایۂ دیوار جانیے

کچھ ایسی بھی دل کی باتیں ہوتی ہیں

جن باتوں کو خلوت کم پڑ جاتی ہے