Waseem Barelvi's Photo'

وسیم بریلوی

1940 | بریلی, ہندوستان

مقبول عام شاعر

مقبول عام شاعر

وسیم بریلوی کی اشعار

100.4K
Favorite

باعتبار

اپنے چہرے سے جو ظاہر ہے چھپائیں کیسے

تیری مرضی کے مطابق نظر آئیں کیسے

جہاں رہے گا وہیں روشنی لٹائے گا

کسی چراغ کا اپنا مکاں نہیں ہوتا

دکھ اپنا اگر ہم کو بتانا نہیں آتا

تم کو بھی تو اندازہ لگانا نہیں آتا

آسماں اتنی بلندی پہ جو اتراتا ہے

بھول جاتا ہے زمیں سے ہی نظر آتا ہے

وہ جھوٹ بول رہا تھا بڑے سلیقے سے

میں اعتبار نہ کرتا تو اور کیا کرتا

تجھے پانے کی کوشش میں کچھ اتنا کھو چکا ہوں میں

کہ تو مل بھی اگر جائے تو اب ملنے کا غم ہوگا

رات تو وقت کی پابند ہے ڈھل جائے گی

دیکھنا یہ ہے چراغوں کا سفر کتنا ہے

تم آ گئے ہو، تو کچھ چاندنی سی باتیں ہوں

زمیں پہ چاند کہاں روز روز اترتا ہے

آتے آتے مرا نام سا رہ گیا

اس کے ہونٹوں پہ کچھ کانپتا رہ گیا

ویسے تو اک آنسو ہی بہا کر مجھے لے جائے

ایسے کوئی طوفان ہلا بھی نہیں سکتا

شرطیں لگائی جاتی نہیں دوستی کے ساتھ

کیجے مجھے قبول مری ہر کمی کے ساتھ

تم میری طرف دیکھنا چھوڑو تو بتاؤں

ہر شخص تمہاری ہی طرف دیکھ رہا ہے

پھول تو پھول ہیں آنکھوں سے گھرے رہتے ہیں

کانٹے بیکار حفاظت میں لگے رہتے ہیں

وہ دن گئے کہ محبت تھی جان کی بازی

کسی سے اب کوئی بچھڑے تو مر نہیں جاتا

محبت میں بچھڑنے کا ہنر سب کو نہیں آتا

کسی کو چھوڑنا ہو تو ملاقاتیں بڑی کرنا

ایسے رشتے کا بھرم رکھنا کوئی کھیل نہیں

تیرا ہونا بھی نہیں اور ترا کہلانا بھی

شام تک صبح کی نظروں سے اتر جاتے ہیں

اتنے سمجھوتوں پہ جیتے ہیں کہ مر جاتے ہیں

میں بولتا گیا ہوں وہ سنتا رہا خاموش

ایسے بھی میری ہار ہوئی ہے کبھی کبھی

غم اور ہوتا سن کے گر آتے نہ وہ وسیمؔ

اچھا ہے میرے حال کی ان کو خبر نہیں

اسی کو جینے کا حق ہے جو اس زمانے میں

ادھر کا لگتا رہے اور ادھر کا ہو جائے

میں نے چاہا ہے تجھے عام سے انساں کی طرح

تو مرا خواب نہیں ہے جو بکھر جائے گا

جھوٹ والے کہیں سے کہیں بڑھ گئے

اور میں تھا کہ سچ بولتا رہ گیا

ہمارے گھر کا پتا پوچھنے سے کیا حاصل

اداسیوں کی کوئی شہریت نہیں ہوتی

نہ پانے سے کسی کے ہے نہ کچھ کھونے سے مطلب ہے

یہ دنیا ہے اسے تو کچھ نہ کچھ ہونے سے مطلب ہے

شرافتوں کی یہاں کوئی اہمیت ہی نہیں

کسی کا کچھ نہ بگاڑو تو کون ڈرتا ہے

وہ میرے گھر نہیں آتا میں اس کے گھر نہیں جاتا

مگر ان احتیاطوں سے تعلق مر نہیں جاتا

مسلسل حادثوں سے بس مجھے اتنی شکایت ہے

کہ یہ آنسو بہانے کی بھی تو مہلت نہیں دیتے

جھوٹ کے آگے پیچھے دریا چلتے ہیں

سچ بولا تو پیاسا مارا جائے گا

میں بھی اسے کھونے کا ہنر سیکھ نہ پایا

اس کو بھی مجھے چھوڑ کے جانا نہیں آتا

بہت سے خواب دیکھو گے تو آنکھیں

تمہارا ساتھ دینا چھوڑ دیں گی

چراغ گھر کا ہو محفل کا ہو کہ مندر کا

ہوا کے پاس کوئی مصلحت نہیں ہوتی

ہر شخص دوڑتا ہے یہاں بھیڑ کی طرف

پھر یہ بھی چاہتا ہے اسے راستا ملے

سبھی رشتے گلابوں کی طرح خوشبو نہیں دیتے

کچھ ایسے بھی تو ہوتے ہیں جو کانٹے چھوڑ جاتے ہیں

میں جن دنوں ترے بارے میں سوچتا ہوں بہت

انہیں دنوں تو یہ دنیا سمجھ میں آتی ہے

کوئی اشارہ دلاسا نہ کوئی وعدہ مگر

جب آئی شام ترا انتظار کرنے لگے

مجھے پڑھتا کوئی تو کیسے پڑھتا

مرے چہرے پہ تم لکھے ہوئے تھے

ہم یہ تو نہیں کہتے کہ ہم تجھ سے بڑے ہیں

لیکن یہ بہت ہے کہ ترے ساتھ کھڑے ہیں

کسی سے کوئی بھی امید رکھنا چھوڑ کر دیکھو

تو یہ رشتہ نبھانا کس قدر آسان ہو جائے

جو مجھ میں تجھ میں چلا آ رہا ہے برسوں سے

کہیں حیات اسی فاصلے کا نام نہ ہو

وہ پوچھتا تھا مری آنکھ بھیگنے کا سبب

مجھے بہانہ بنانا بھی تو نہیں آیا

کچھ ہے کہ جو گھر دے نہیں پاتا ہے کسی کو

ورنہ کوئی ایسے تو سفر میں نہیں رہتا

ان سے کہہ دو مجھے خاموش ہی رہنے دے وسیمؔ

لب پہ آئے گی تو ہر بات گراں گزرے گی

میں اس کو آنسوؤں سے لکھ رہا ہوں

کہ میرے بعد کوئی پڑھ نہ پائے

کسی نے رکھ دیے ممتا بھرے دو ہاتھ کیا سر پر

مرے اندر کوئی بچہ بلک کر رونے لگتا ہے

اسی خیال سے پلکوں پہ رک گئے آنسو

تری نگاہ کو شاید ثبوت غم نہ ملے

ذرا سا قطرہ کہیں آج اگر ابھرتا ہے

سمندروں ہی کے لہجے میں بات کرتا ہے

ہونٹوں کو روز اک نئے دریا کی آرزو

لے جائے گی یہ پیاس کی آوارگی کہاں

بھرے مکاں کا بھی اپنا نشہ ہے کیا جانے

شراب خانے میں راتیں گزارنے والا

انہیں تو خاک میں ملنا ہی تھا کہ میرے تھے

یہ اشک کون سے اونچے گھرانے والے تھے

آج پی لینے دے جی لینے دے مجھ کو ساقی

کل مری رات خدا جانے کہاں گزرے گی